اسلام آباد کے پوش سیکٹر جی 13 میں 17 سالہ معروف ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل میں مبینہ طور پر ملوث ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، بیٹی کے قتل کی تفتیش کے دوران ان کے والد کا ویڈیو پیغام بھی منظرِ عام پر آگیا ہے جس میں وہ اس سانحے سے متعلق بات کرتے نظر آئے اور حکومت سے انصاف کی درخواست کی۔

ثنا یوسف کے والد نے کہا کہ میں سرکاری ملازم ہوں، میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری حکومت سے درخواست ہے مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا تعلق چترال سے ہے اور سب جانتے ہیں کہ چترالی لوگ کتنے امن پسند ہوتے ہیں، وہ کسی تنازع اور لڑائی جھگڑے میں نہیں پڑتے، یہ اداروں کا کام ہے کہ وہ اس واقعہ کی تحقیقات کریں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)

واضح رہے کہ پولیس نے مبینہ قاتل کو فیصل آباد سے گرفتار کر لیا ہے، جبکہ واقعے کی سی سی ٹی وی بھی سامنے آ گئی ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کم عمر لڑکا، جس نے کالی ٹی شرٹ پہن رکھی ہے، شام 5 بج کر 9 منٹ پر موقع واردات یعنی جی 13 سے فرار ہوتا ہے۔ سی سی ٹی وی میں ملزم کو بھاگتے ہوئے بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے سوشل میڈیا ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملزم کو فیصل آباد سے گرفتار کر کے اس سے ثنا یوسف کا موبائل بھی برآمد کر لیا ہے۔

سید علی ناصر رضوی نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پیز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے ثنا یوسف کی جانب سے خود کو بار بار مسترد کیے جانے پر اسے قتل کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس ثنا یوسف ثنا یوسف قاتل ثنا یوسف قتل ثنا یوسف والد ٹک ٹاکر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس ثنا یوسف ثنا یوسف قاتل ثنا یوسف قتل ثنا یوسف والد ٹک ٹاکر ثنا یوسف

پڑھیں:

کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔

 ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔

بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی