کراچی میں پھر زلزلے کا جھٹکا، صورتحال کب تک برقرار رہے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
کراچی میں پیر کو بھی زلزلے کے جھٹکا محسوس کیا گیا جس کے بعد گزشتہ 5 دنوں سے محسوس کیے جانے والے جھٹکوں کی تعداد 28 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 3 دنوں میں 18 زلزلے، نیا ریکارڈ قائم
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق جمعرات کو زلزلے کی شدت 2.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز جنوبی ملیر میں 5 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ملیر میں اتوار سے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جارہے ہیں جن کی شدت زیادہ سے زیادہ 3.
دریں اثنا نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیف میٹ مہرصاحبزاد خان نے کہا تھا کہ شہر میں معمولی نوعیت کے جھٹکے آئندہ 2 سے 3 روز تک محسوس کیے جاسکتے ہیں تاہم ان جھٹکوں کی شدت میں بتدریج کمی کے ساتھ ساتھ صورتحال بہتر ہوتی دکھائی دے گی لہٰذا شہریوں کو اس سلسلے میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: کراچی میں بڑے زلزلے کی پیشگوئی، شدت کیا ہوگی؟
یاد رہے کہ پیر کی رات کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے ابتدائی طور پر 200 سے زائد قیدی فرار ہوگئے تھے جن میں سے 78 سے زائد مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: کراچی میں زلزلے کے دوران ملیر جیل میں ہنگامہ، 200 سے زائد قیدی فرار، ایک ہلاک
فرار ہونے کے دوران ایک قیدی ہلاک جب کہ 2 زخمی ہوگئے تھے۔ سندھ حکومت نے قیدیوں کے فرار کے باعث غفلت برتنے پر آئی جی جیل خانہ جات کو عہدے سے ہٹادیا تھا جبکہ سپرنٹنیڈینٹ ملیر جیل اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات کو معطل کردیا گیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری کراچی کراچی زلزلے کے جھٹکے
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی کراچی زلزلے کے جھٹکے کراچی میں زلزلے کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔