UrduPoint:
2026-06-03@02:02:00 GMT
ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں صرف 7 فیصد اضافے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 جون 2025ء ) ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں صرف 7 فیصد اضافے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق وزراء، اسپیکر قومی اسمبلی، چئیرمین سینیٹ اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں کئی سو فیصد اضافہ کرنے والی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں معمولی سا اضافہ کیا ہے۔ خاص کر پنشنرز کی پنشن میں صرف 7 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے بجٹ 2025/26ء کی منظوری دے دی وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافہ مسترد کرتے ہوئے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا، اسی طرح پنشن میں بھی 7 فیصد سے بڑھاکر 10 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ منگل کے روز وفاقی کابینہ کی جانب سے بجٹ 2025/26ء کی منظوری دے دی گئی ہے، اس حوالے سے کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا جہاں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دی گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری دی۔(جاری ہے)
وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سوا سال کئی چیلنجزکا سامنا رہا، عام آدمی اورتنخواہ دارطبقےنےبڑی قربانیاں دی ہیں، قوم کی محنت سے ملک اب ایسے دہرائے پر کھڑا ہے جہاں سے ہمیں اب ٹیک آف کرنا ہے، معیشت میں استحکام کے مثبت اعشاریئے سامنے آئے ہیں، قوم کی محنت سے ملک اب ٹیک آف کی پوزیشن میں آگیا ہے، موجودہ بجٹ میں معاشی ترقی پرخصوصی توجہ مرکوزکی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج طلب کرلیے گئے ہیں، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بجٹ پیش کیا جائے گا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا، وفاقی وزیر خزانہ آئندہ مالی سال کا 17 ہزار 600 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے، بجٹ دستاویز کو پولیس کی سخت سکیورٹی میں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچادیا گیا، سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج شام 5 بجے ہوگا، قومی اسمبلی کے اجلاس کا 4 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا گیا، وزیر خزانہ محاصل سمیت دیگر دستاویزات قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے، تمام شعبوں میں ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، ٹیکس ریونیو کا ہدف 14 ہزار 131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو وصولی کا ہدف 5 ہزار 167 ارب روپے تجویز کیے جانے کا امکان ہے، نان ٹیکس ریونیو ملا کر 19 ہزار 298 ارب روپے مقرر کرنے کا ہدف ہے، علاوہ ازیں بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے ہوں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سرکاری ملازمین کی قومی اسمبلی کی منظوری کے اجلاس ارب روپے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔