پنجاب کے آئندہ مالی سال کے 1200 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا ڈرافٹ تیار
اشاعت کی تاریخ: 11th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
پنجاب کے آئندہ مالی سال کے 1200 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا ڈرافٹ تیار کر لیا گیا۔
ذرائع پنجاب اسمبلی کے مطابق 2750 ترقیاتی اسکیموں کے لیے اور 1076 ارب روپے مقامی سطح سے حاصل ہوں گے، ترقیاتی اسکیموں کے لیے 124 ارب 30 کروڑ روپے غیرملکی فنڈنگ سے آئیں گے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 1353 نئی ترقیاتی اسکیمں شامل کی گئی ہیں جبکہ 1412 جاری ترقیاتی اسکیموں کے لیے 536 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ذرائع پنجاب اسمبلی کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے457 ارب روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ 32 پرانے ترقیاتی پروگراموں کے لیے207 ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 13 جون کو پیش کیے جانے کا امکان وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹیکس بڑھانے کی تجاویز مسترد کر دیںوزیر اعلیٰ لوکل روڈ پروگرام بلاک کے لیے 100 ارب روپے، تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتالوں کی سولر پر منتقلی کے لیے ایک ارب روپے، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکولوں کو شمسی توانائی پر منتقلی کے لیے 75 کروڑ اور پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے لیے 4 ارب 34 کروڑ 71 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق 8 اضلاع میں وزیر اعلیٰ پنجاب اسکولز خوراک پروگرام کے لیے 9 ارب روپے، وزیر اعلیٰ ٹریکٹر پروگرام کے لیے 10 ارب روپے، لاہور میں زراعت ہاؤس کی تعمیر و مرمت کے لیے 75 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پنجاب میں آم کی پیدوار بڑھانے کے لیے 3 سالہ پروگرام لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آم کی پیداواربڑھانے کےلیے سالانہ 75 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پنجاب کلین ایئر پروگرام کےلیے سالانہ 50 کروڑ روپے، پنجاب گرین ٹریکٹر پروگرام فیز ٹو کےلیے ساڑھے 5 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پنجاب حکومت نے ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ ہاؤس پنجاب قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 50 کروڑ روپے رکھنے، وزیر اعلیٰ پنجاب آسان کارروبار فنانس کے لیے 89 ارب روپے اور پنجاب بزنس فیسیلی ٹیشن سینٹرز کا دائرہ کار وسیع کرنے کےلیے 75 کروڑ روپے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سی ایم آسان کاروبار فنانس نارتھ کے لیے 8 ارب، ساؤتھ کے لیے 6 ارب روپے، پنجاب کے سرکاری کالج میں سولر سسٹم کے لیے 3 ارب روپے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اور ہائیکورٹ بینچز کو سولر سسٹم پر منتقل کے لیے 3 ارب 4 کروڑ روپے رکھنےکی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے 3 کروڑ روپے ابتدائی طور پر رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
گورنر ہاؤس کو سولر پر منتقل کرنے کےلیے 20 کروڑ روپے، سولر بیسڈ ہائیڈرو پمپس پنجاب کےلیے 40 کروڑ روپے جبکہ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کو سولر پر منتقل کرنے کےلیے 33 کروڑ 94 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ترقیاتی اسکیموں کے لیے روپے رکھنے کی تجویز کی تجویز دی گئی ہے کروڑ روپے رکھنے مالی سال کے وزیر اعلی پنجاب کے ارب روپے کے مطابق کے لیے 3
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘