بلوچستان حکومت کی کلائمیٹ چینج فنڈ قائم کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
وزیراعلیٰ بلو چستان نے کہا کہ بلوچستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید خطرات لاحق ہیں، فنڈ کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کی سمت میں عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان حکومت نے کلائمیٹ چینج فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ بلو چستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید خطرات لاحق ہیں، فنڈ کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو ایک صحت مند اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کی سمت میں عملی اقدامات کئے جائیں گے، حکومت پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے قدرتی ماحول کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل کر چکی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ کلائمیٹ چینج فنڈ اس ویژن کی ایک بڑی عملی شکل ہے ، ماحولیاتی ماہرین نے حکومت بلوچستان کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرنے کی
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔