حکومت کا حافظ آباد میں اجتماعی زیادتی کا شکار خاتون کی قانونی اور طبی معاونت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
لاہور:
پنجاب حکومت نے حافظ آباد میں اجتماعی زیادتی کا شکار خاتون کی قانونی، طبی اور نفسیاتی معاونت کا اعلان کردیا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے حافظ آباد کا دورہ کرکے اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون سے ملاقات کی۔
حنا پرویز بٹ نے اغواء، اجتماعی زیادتی اور بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والی خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
حنا پرویز بٹ نے بتایا کہ مقدمہ میں نامزد تین ملزمان پولیس مقابلے میں مارے جاچکے ہیں جبکہ ایک مرکزی ملزم تاحال مفرور ہے، انہوں نے پولیس کو مفرور ملزم کی فوری گرفتاری کی بھی ہدایت کردی۔
بعد ازاں حنا پرویز بٹ نے زیادتی کے بعد قتل ہونے والے دو بچوں کے گھر کا دورہ کرکے احمد علی اور ارشمان کے خاندان سے ملاقات کرکے مکمل انصاف کی یقین دہانی کرائی۔
حنا پرویز بٹ نے ڈی پی او حافظ آباد کو مقدمہ کی شفاف تفتیش کے احکامات جاری کیے۔
حنا پرویز بٹ نے کہا کہ یہ صرف ایک واقعہ نہیں قومی المیہ ہے، ظالم قانون کے شکنجے میں آئیں گے، خواتین اور بچوں کے لیے محفوظ پنجاب حکومت پنجاب کا ویژن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حنا پرویز بٹ نے اجتماعی زیادتی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔