معروف پاکستانی اداکارہ اور ماڈل ماہرہ خان ایک بار پھر اپنے فن اور ڈانس کے باعث سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم ’لو گرو‘ کے مقبول گانے ’ٹوٹ گیا‘ پر ان کی ایک کلاسیکل ڈانس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ اس پرفارمنس میں ماہرہ خان کے ہمراہ معروف کلاسیکل ڈانسر فاطمہ امجد بھی شامل تھیں۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں فنکاراؤں نے سرخ اور سیاہ رنگ کے لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے بےحد مہارت اور جذبات کے ساتھ کلاسیکل ڈانس پیش کیا۔

ویڈیو میں کلاسیکل ڈانس کی خوبصورتی کے ساتھ جدید انداز کی جھلک بھی دکھائی دے رہی ہے، جسے ناظرین کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔ ماہرہ اور فاطمہ کی جوڑی کو سوشل میڈیا صارفین نے فن اور خوبصورتی کا امتزاج قرار دیا۔

A post common by Fatima Amjed (@fatimamjedd)

اس ویڈیو کو ہزاروں لائکس اور کمنٹس ملے ہیں، ساتھی فنکاروں کی جانب سے بھی ماہرہ کی اس ڈانس پرفارمنس کو خوب سراہا جارہا ہے۔

اداکارہ دُرفشاں سلیم اور امر خان نے بھی اس پرفارمنس کو سراہتے ہوئے ماہرہ اور فاطمہ کی تعریف کی۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو نے مقبولیت حاصل کر لی ہے اور تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

 

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا

پڑھیں:

کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا

کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔

Canada has turned into an Indian colony!!!!

Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.

We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7

— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل

اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔

کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔

کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت