آپریشن سندور کی بدترین ناکامی اور مودی کی سفارتی نااہلی کے نتیجے میں بھارت عالمی سطح پر تنہا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں بدترین ناکامی اور مودی کی سفارتی نااہلی کے نتیجے میں بھارت عالمی سطح پر تنہا ہو گیا ہے۔
دی وائیر کی جانب سے بھارتی سفارتی تنہائی اور پاکستان کے ہاتھوں شکست پر تجزیہ کیا گیا ہے، جس میں دی وائیر نے بھارت کی سفارتی ناکامی پر کڑی تنقید کی ہے۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مودی کی ’ملٹی الائنس‘ حکمت عملی ناکام رہی ہے اور اس میں کسی ملک نے بھی بھارت کا ساتھ نہیں دیا۔ یہاں تک کہ چین نےابھی ٓپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی کھل کے حمایت کی ہے۔
دی وایئر کے مطابق چین نے پاکستان کے فضائی دفاع اور سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے میں بھرپور مدد فراہم کی۔ بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے اشارے پر چین نے براہمپترا کا پانی روکنے کا عندیہ بھی دیا۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں بھی بھارت کی کوششیں بری طرح ناکام ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی پریس ریلیز میں حملہ آور دہشت گرد گروپ یا پاکستان کا ذکر تک شامل نہ یں کیا گیا۔ یہاں تک کہ بھارت کی فوجی برتری کا دعویٰ دنیا کو قائل نہ کر سکا بلکہ میدان میں پاکستان بازی لے گیا۔
دی وایئر کے مطابق ٹرمپ کی مداخلت نے بھارتی میڈیا کی جنگی جنونیت پر مبنی بیانیے کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورم پر اٹھا کر پاکستان کے مؤقف کو تقویت دی ہے اور ٹرمپ کی مداخلت نے بھارت کی عالمی طاقت بننے کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ اور سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ جنرل کیوریلا نےپاکستانی قیادت کی کھل کر تعریف کی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو واشنگٹن میں عسکری اور حکمت عملی کی مضبوط شراکت داری کے لیے مدعو کیا گیا۔ بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور سفارتی سطح پر پاکستان کی حمایت بڑھتی جا رہی ہے، جن میں امریکا بھی شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے بھارت کی گیا ہے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔