مریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منی—فائل فوٹوز

امریکی صدارتی محل وائٹ ہاؤس میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ملاقات کچھ دیر میں ہوگی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی یہ ملاقات ظہرانے میں کیبنٹ روم میں ہوگی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

امریکا کے سرکاری دورے کے دوران پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ بھارت نے بین الاقوامی سرحد پار حملے کرکے ایک نیا نارمل اور خطرناک مثال قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ بھارتی تسلط کے عزائم کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ایران کی مضبوط حمایت کرتا ہے اور جنگ کے خاتمے کی امریکی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل کا یہ تاریخی دورہ پاک امریکا تعلقات اور عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری قیادت کی پہچان کی عکاسی کا مظہر ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو کسی بھی بھارتی وفد سے پہلے وائٹ ہاؤس میں مدعو کرنا امریکی خارجہ پالیسی میں پاکستان کی اسٹریٹجک ترجیح کا واضح اشارہ ہے۔

امکان ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے یا تو میڈیا سے بات کریں گے یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے اس ملاقات کے حوالے سے کوئی تفصیل بتائیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت