مخصوص نشستیں کیس؛ سیاسی مسائل خود حل کریں، ججز نے اصلاحات نہیں کرنی، سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ سیاسی مسائل خود حل کریں، ججز نے اسلاحات نہیں کرنی۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، جس میں پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے سماعت کے آغاز پر ریمارکس دیے کہ جتنی باتیں آپ آج کر رہے وہ مرکزی کیس میں کرنی تھیں۔ مرکزی کیس میں آپ نے کہا نشستیں ان کو دے دو۔ 2018 کے اخبارات کا کارٹون یاد آیا، ایک رنگ میں 1 ریسلرز تھے۔ دو میں سے ایک کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جب تک سیاسی لوگ مسائل خود حل نہیں کریں گے، ہم نہیں کرسکتے۔ ججز نے نظام کی اصلاحات نہیں کرنی۔ یہ حقائق آپ نے تو مرکزی کیس میں پیش نہیں کیے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ابھی آپ نے ایک فہرست پیش کی، جو پہلے نہیں تھی۔ یہ فہرست پہلے کہاں تھی؟۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ ساری چیزیں ہم نے یہاں وہاں سے دیکھیں۔ ہم نے ریکارڈ خود منگوایا اور کہا غلط ہوا۔ سپریم کورٹ میں 3 بینچز الیکشن مقدمات سن رہے تھے۔ 99 فیصد مقدمات کے فیصلے آپ کے حق میں ہوئے۔ کل آپ کہہ رہے تھے ہم الیکشن کے دوران عدالت نہیں آسکتے تھے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کے سارے دلائل کا مرکز الیکشن کمیشن ہے۔ آپ کے مطابق الیکشن کمیشن نے ہمارے ساتھ غلط کیا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عدالت کو 41 امیدواران کے پی ٹی آئی نہ لکھنے کہ وجہ بتانا چاہتا ہوں۔ الیکشن کمشنر پنجاب کا فیصلہ تھا کہ پی ٹی آئی والوں کے کاغذات منظور نہیں ہوں گے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کاغذات نامزدگی میں الیکشن کمیشن کا تو کام ہی نہیں۔ کاغذات نامزدگی پر فیصلہ آر اوز نے کرنا ہوتا ہے۔
وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ آر اوز کا بھی تاثر تھا کہ کاغذات منظور نہیں ہوں گے۔ ایک غیر یقینی کی صورتحال تھی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میچور سیاسی جماعتیں غیر یقینی صورتحال کا مقابلہ کرتیں ہیں۔ کل آپ نے کہا 12، 14 سال کے بچے گرفتار ہوتے تھے، آپ ٹافیاں دینے جاتے تھے۔ کسی بچے کا باپ کورٹ نہیں آیا، کوئی پریس کلپنگ نہیں دی گئی۔ اس قسم کا بیان ہمارے اور قوم کے لیے سرپرائز تھا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قوم کے لیے تو یہ سرپرائز نہیں تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلی مرتبہ ہی اس طرح کی بات کی گئی، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں اس بیان پر معذرت چاہتا ہوں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ غلط فیصلہ نظر ثانی کا کوئی گراونڈ نہیں ہے ۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظر ثانی داخل کرنے والوں کے گراونڈز کیا ہیں ، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ ان کا گراونڈ ہے کہ ریلیز اس کو دیا گیا جو فریق نہیں تھا ۔
جسٹس جمال نے استفسار کیا کہ کیا یہ غلط فیصلہ تھا غلطی تھی یا سوچ سمجھ کر فیصلہ دیا گیا ، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ سوچ سمجھ کر فیصلہ دیا گیا ہے غلطی نہیں تھی ۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ اس مقدمے میں جس کا حوالہ دے رہے ہیں سفارشات ناقص تھیں ۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ خورشید بھنڈر کیس میں سارا غیر آئینی سپر اسٹرکچر ختم کر دیا تھا ۔ اس فیصلے کے باعث 90 سے زائد جج فارغ ہوئے تھے ۔ سپریم کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ جب ان کے سامنے غیر آئینی باتیں آئیں تو وہ اسے ٹھیک کرنے کی ہدایت دیں ۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ 3نومبر 2007کا اقدام غیر آئینی ہے ۔ آرٹیکل 185/3 کی اپیل سنتے ہوئے عدالت 184/3 کا اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ ہائی کورٹ کے پاس 199سی میں بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے ہر حکم دینے کا اختیار ہے ۔ پیر صابر شاہ کیس میں کیا ہوا تھا وہ بھی بتاتا ہوں ۔ آرٹیکل 199میں متاثرہ شخص کا درخواست گزار ہونا ضروری ہے لیکن 184 میں نہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے آپ کو الیکشن سے پہلے 100 فیصد انصاف دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں جو حقائق بیان کیے گئے وہ آپ نے پیش نہیں کیے تھے۔
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں فہرست بنائی ہم نے لیکن وہ تو ہمارے سامنے نہیں تھی۔ کیا قانونی شواہد موجود تھے؟۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور 2 بنچز سے 99۔9 کاغذات نامزدگی کے مقدمات پی ٹی آئی کے حق میں آئے تھے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس مقدمے میں فریق عوام پاکستان ہے۔ کئی ایسے مقدمات ہیں جن سے یہ طے ہوتا ہے کہ جہاں عام عوام کا تعلق ہو وہ مفاد عامہ کا مقدمہ ہوتا ہے۔ آرٹیکل 185 تھری میں اپیل آرٹیکل 199 کا تسلسل ہوتی ہے جو بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق ہے۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ یہ عدالت اپیل میں مفاد عامہ کے معاملے میں آرٹیکل 184 تھری اور ساتھ آرٹیکل 187 کا دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے۔ پیر صابر شاہ کیس میں ججز نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف براہ راست سپریم کورٹ میں اپیل کا نکتہ طے کیا۔ پیر صابر شاہ کیس میں ججز نے طے کیا کہ مکمل انصاف اور آرٹیکل 184 تھری کا دائرہ اختیار استعمال ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جوڈیشل ریویو کے لیے دائرہ اختیار استعمال کرنے کا مکمل اختیار ہے۔
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 185 تھری کا ایک دائرہ اختیار ہے۔ اس کیس میں کم از کم پورے جج کو پتا تو ہوتا ہے کہ کون سا دائرہ اختیار ہے۔ موجودہ کیس میں تو بس فریقین اور عدالت کا معاملہ ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ عدالت اور فریقین کا نہیں عوام کے جمہوری حق ہے جس کی خلاف ورزی ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ آپ نے یہ سب عدالت کے سامنے پہلے نہیں رکھا۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم نے کہا تھا کہ اسمبلی میں درست نمائندگی ہونی چاہیے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کیا مخصوص نشستیں خالی نہ رکھی جانے پر کوئی آئینی پابندی ہے؟ ، جس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ عدالت نے قرار دے دیا کہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رکھی جا سکتیں ہم تو اس پر منحصر ہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ کون سے بنیادی حقوق اس کیس میں متاثر ہوئے تھے؟ جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال کیا کہ کیا کوئی عدالت کسی امیدوار اور سیاسی جماعت کے چھوڑے گئے خلا کو پر کر سکتی ہے؟ اگر کسی کے ساتھ دھاندلی ہو اور وہ درخواست دائر کرنے میں غلطیاں کرے تو عدالت اس کو موقع دے سکتی ہے؟ کیا عدالت فریقین کی غلطیوں کو دُور کر سکتی ہے؟
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اس کیس میں ایک صورتحال پیدا کی گئی جو پی ٹی آئی نے نہیں کی۔ ہمارے سامنے دیوار کھڑی کر دی جائے اور میں اس کو گرا دوں تو یہ سوال ہو گا کہ دیوار کیوں گرائی یا یہ کہ کھڑی کس نے کی؟
جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ہم آپ کو شنوائی کا حق دے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کچھ بھی کہتے جائیں۔ دیوار آپ نے کھڑی کی، آپ سنی اتحاد کونسل میں گئے اور وہ عدالت میں آئے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ آپ اگلے انتخابات کی تیاری کریں، جس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسے ہی حالات رہے تو اگلے انتخابات بھی ایسے ہی ہوں گے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ آئین کی پابند ہے۔ اگر کوئی فیصلہ غیر آئینی ہے تو عدالت اس کو واپس لے سکتی ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میری نظر میں اکثریتی فیصلہ غیر آئینی نہیں تھا۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جس پر سلمان اکرم راجا نے سلمان اکرم راجا نے کہ ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے الیکشن کمیشن دائرہ اختیار نے کہا کہ آپ کر سکتی ہے اختیار ہے پی ٹی آئی کیس میں ہوتا ہے تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب