امریکا کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایران کا اسرائیل پر شدید حملہ، 24 اسرائیلی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
امریکا کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایران کا اسرائیل پر شدید حملہ، 24 اسرائیلی ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
امریکا کے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیے جن میں خیبر بھی شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکا نے اپنے جدید ترین B-2 بمبار طیاروں کے ساتھ ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے حملے میں فردو کے ایٹمی پلانٹ کو مکمل تباہ کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر دیا ہے، امریکی طیاروں نے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں حملے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے تین جوہری سائٹس پر کامیاب حملہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز پر کامیاب حملہ کیا، جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کے جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا گیا حملے میں فردو ایٹمی پلانٹ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
حملے کے دوران تمام طیارے ایران کی فضائی حدود سے باہر پہنچ چکے ہیں اور ان کی واپسی کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فردو جوہری مرکز پر بموں کا مکمل پے لوڈ گرایا گیا، جس سے اس اہم جوہری سائٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی صدر نے اس کارروائی کو دنیا کی سب سے پیشہ ورانہ اور کامیاب فضائی کارروائی قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے فوجی ادارے کے پاس اس نوعیت کا آپریشن کرنے کی صلاحیت نہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ایک شاندار کامیابی ہے اور اس کا سہرا ہمارے بہادر امریکی فوجیوں کے سر ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم امن کی طرف قدم بڑھائیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران باز نہ آیا تو دوبارہ حملے کریں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ہر ایک امریکی شہری اور فوجی ہمارا ہدف ہیں، امریکی حملے پر ایران بھرپور جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے حملے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جبکہ مبینہ طور پر اس حملے میں بی-2 بمبار طیارے استعمال کیے گئے ہیں جو کہ گزشتہ روز ہی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے پر پہنچا دیے گئے تھے۔
ایران نے جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی تصدیق کر دی
ایران نے امریکی حملوں کے نتیجے میں فردو، نطنز اور اصفہان میں جوہری سائٹس پر ہونے والی بمباری کی پہلی بار سرکاری طور پر تصدیق کی ہے۔
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق صوبہ قُم کے کرائسس مینجمنٹ کے ترجمان مرتضیٰ حیدری نے بتایا کہ فردو جوہری مرکز کے ایک حصے پر فضائی حملہ ہوا ہے۔
اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹی وی پر ایران کے نائب سیاسی ڈائریکٹر حسن آبادی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان تینوں جوہری سائٹس کو حملے سے پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں سچ ہیں لیکن ایران نے کوئی بڑا نقصان نہیں اٹھایا کیونکہ جوہری مواد پہلے ہی نکال لیا گیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے اصفہان میں نیوکلیئر سائٹ کونشانہ بنایا ہے، تاہم اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کسی خطرناک مواد کا کوئی اخراج نہیں ہورہا۔
اصفہان کے نائب گورنر نے صوبے پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کی ہیں۔ صوبائی اہلکار کا کہنا ہے کہ اصفہان پر اسرائیلی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکی حملے کے خلاف پورے قوت سے مزاحمت کریں گے، ایران کا اعلان
ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی فضائی حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ان جارحانہ کارروائیوں کے خلاف پوری قوت سے مزاحمت کرے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے بین الاقوامی قوانین کی سنگین اور بے مثال خلاف ورزی کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا: “دنیا یہ نہ بھولے کہ سفارتی عمل کے دوران سب سے بڑی خیانت امریکا نے کی، جس نے اسرائیل کی جارحیت کی حمایت کر کے ایران کے خلاف خطرناک جنگ کا آغاز کیا۔”
بیان میں مزید کہا گیا کہ: “یہ واضح ہو چکا ہے کہ امریکا کسی ضابطے، اخلاقیات یا عالمی اصولوں کا پابند نہیں۔ وہ ایک نسل کش اور قابض ریاست کے مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔”
ایرانی وزارت خارجہ نے زور دے کر کہا کہ: “اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے دفاع کے لیے پورے عزم اور طاقت کے ساتھ امریکی حملوں اور اس مجرمانہ ریاست کے خلاف مزاحمت کا حق رکھتا ہے۔”
امریکی حملہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے: ایرانی وزیر خارجہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کے حالیہ فضائی حملوں پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کاروائی بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس کے “ہمیشہ یاد رکھے جانے والے نتائج” ہوں گے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا: “امریکہ، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے، نے ایران کی پرامن نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور NPT کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ آج صبح کے واقعات ناقابلِ برداشت، غیر قانونی اور مجرمانہ فعل ہیں، اور دنیا بھر کے تمام اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو اس خطرناک حرکت پر شدید تشویش ہونی چاہیے۔
وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ: “ایران اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے دفاع کے لیے تمام آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔”
یہ عراقچی کا امریکی حملوں کے بعد پہلا عوامی بیان ہے، جو عالمی سطح پر امریکہ کے اقدامات پر ردِعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ایران پر حملہ کرنے والے جہازوں کے مقام کا پتہ لگالیا ہے، پاسداران انقلاب
پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل علی محمد نے دعویٰ کیا کہ ایران پر حملہ کرنے والے طیارے اس وقت کہاں ہیں پتا لگا لیا ہے اور انہیں کسی بھی وقت نشانہ بناسکتے ہیں،
انہوں نے کہا کہ ابھی مزید خطرناک میزائل استعمال ہونا باقی ہیں، ہمارا آج کا حملہ سب سے کامیاب رہا، جس میں 14 فوجی اہداف نشانہ بنے۔
بریگیڈیئر جرنل علی محمد نے کہا کہ حیفہ میں سیل ٹاور نشانہ بنا اس کے علاوہ اسرائیلی فوج سے منسلک اے آئی کمپنیز اور لیبارٹریز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حیفہ کے رفال سینٹر کو بھی نشانہ بنایا ہے.
اسرائیلی ایئرپورٹس اتھارٹی نے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر فضائی حدود کو تاحکم ثانی بند کر دیا ہے، تاہم اردن اور مصر سے ملحقہ زمینی راستے کھلے ہیں۔
اردن کی حکومت نے بھی ملک بھر میں خطرے کے پیشِ نظر سائرن بجا دیے ہیں تاکہ شہری الرٹ رہیں۔
ایرانی حملوں میں 24 اسرائیلی ہلاک، 1213 زخمی
اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں میں 10 روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد چوبیس ہو گئی جبکہ 1213 اسرائیلی زخمی ہوئے جن میں سے 16 کی حالت تشویشناک ہے۔
ایرانی سیکیورٹی فورسز کے 9 اہلکار شہید
ایران کے علاقے یزد پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کے 9 اہلکار شہید ہوگئے۔
ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل کے یزد میں 2 فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملے میں 7 پاسداران انقلاب اور 2 فوجی اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کو خطرناک شدت قرار دیتے ہوئے اس بات کا انتباہ دیا ہے کہ اس تنازعہ کے شدت اختیار کرنے سے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (پہلے ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ اب اس بات کا بڑھتا ہوا خطرہ موجود ہے کہ یہ تنازعہ تیزی سے قابو سے باہر ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں شہریوں خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج نکل سکتے ہیں۔
ایران کا امریکی حملے پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ
ایران نے امریکہ کی جانب سے اپنے جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس نیوز کے مطابق نیویارک میں قائم ایران کے اقوام متحدہ مشن نے امریکی بمباری کو “کھلی اور غیرقانونی جارحیت” قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی شدید مذمت کرے۔
ایرانی مشن کا کہنا ہے: “سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داری ادا کرے اور اس سنگین جرم کے مرتکب فریق کو مکمل انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اسے سزا سے استثنیٰ نہ ملے۔”
ایران کا مؤقف ہے کہ عالمی امن کے تحفظ کے لیے اس حملے کو نظر انداز کرنا عالمی قوانین کی نفی ہو گی۔
کیوبا، وینزویلا، چلی، میکسیکو کی ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت
ایران پر امریکی حملے کے بعد لاطینی امریکہ کے کئی ممالک نے واشنگٹن کی اس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کیوبا کے صدر میگل ڈیاز کینل نے امریکی بمباری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خطرناک اضافہ ہے جو انسانیت کو “ناقابل واپسی بحران” کی طرف دھکیل رہا ہے۔
چلی کے صدر گیبریل بورِک نے بھی امریکہ کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: “چلی امریکہ کے اس حملے کی مذمت کرتا ہے، طاقت رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسے انسانیت کے طے کردہ قوانین کی خلاف ورزی میں استعمال کریں۔ چاہے آپ امریکہ ہی کیوں نہ ہوں۔”
میکسیکو کی وزارت خارجہ نے تنازع کو کم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “ہم اپنی پرامن خارجہ پالیسی اور آئینی اصولوں کے تحت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ علاقائی ریاستوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی بحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔”
وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گِل نے ٹیلیگرام پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ:”وینزویلا امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی درخواست پر کی گئی اس بمباری کی سخت اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ہم فوری طور پر تمام دشمن کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
برطانیہ نے امریکی حملوں کی کھل کر حمایت کردی
برطانوی وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر نے ایران پر امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں سے تہران کے ایٹمی پروگرام سے لاحق خطرہ کم ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا: “ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اب بھی نازک ہے اور خطے میں استحکام برطانیہ کی اولین ترجیح ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ دوبارہ سفارتی مذاکرات کی میز پر واپس آئے تاکہ اس بحران کا پُرامن حل نکالا جا سکے۔
امریکی حملے پر سعودی عرب، عمان، قطر اور عراق کا ردعمل بھی سامنے آگیا
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک نے سخت ردعمل دیا ہے۔ سعودی عرب، عمان، قطر اور عراق نے امریکی کارروائی کو غیر قانونی اور خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی عرب نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کے فضائی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے: ’’مملکت سعودی عرب، اسلامی جمہوریہ ایران میں ہونے والی تازہ پیش رفت، خصوصاً امریکی فضائی حملوں میں ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ: ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں، تناؤ کم کرنے کے لیے اقدامات کریں، اور مزید بگاڑ سے بچیں۔‘‘
سعودی عرب نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارتی حل کی جانب پیش رفت کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے، تاکہ خطے میں امن و استحکام بحال کیا جا سکے۔
عمان، جو حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات میں ثالثی کرتا رہا ہے، نے امریکی حملے کو ’’غیر قانونی جارحیت‘‘ قرار دیا ہے۔ عمانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سلطنت ’’انتہائی فکرمند‘‘ ہے اور خبردار کیا کہ یہ کارروائی خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔ ترجمان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کی بھی نشاندہی کی۔
قطر نے امریکی حملوں کے بعد بڑھنے والی خطرناک کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ’’ہولناک اثرات‘‘ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ قطری وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’موجودہ صورتحال کی بگاڑ‘‘ تشویشناک ہے اور تمام فریقین کو فوری طور پر عسکری کارروائیاں روک کر بات چیت اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
عراق نے بھی ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ عراقی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ فوجی کارروائی علاقائی امن و سلامتی کے لیے ’’سنگین خطرہ‘‘ ہے۔
امریکہ کے ایران پر حملے: آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی جانب سے محتاط ردعمل
آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سفارت کاری اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کی براہ راست حمایت نہیں کی، تاہم ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا: “ہم صدر ٹرمپ کے اس بیان کو نوٹ کرتے ہیں کہ اب امن کا وقت ہے، اور ہم کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیتے ہیں۔”
دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے حملوں پر فکرمندی ظاہر کی، تاہم انہوں نے امریکہ کی مذمت نہیں کی۔
ونسٹن پیٹرز نے کہا: “یہ نہایت اہم ہے کہ مزید کشیدگی سے بچا جائے۔ نیوزی لینڈ سفارت کاری کی ہر کوشش کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور تمام فریقین سے مذاکرات میں واپسی کی اپیل کرتا ہے۔ سفارتی حل ہی پائیدار راستہ ہے، فوجی کارروائیاں نہیں۔”
یہ محتاط اور متوازن ردعمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مغربی اتحادی ممالک بھی خطے میں مزید بگاڑ سے بچنا چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کا ایران کے معاملے پر نوازشریف سے ہنگامی رابطہ، ایران پر امریکی حملے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال وزیراعظم کا ایران کے معاملے پر نوازشریف سے ہنگامی رابطہ، ایران پر امریکی حملے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال سلامتی کونسل اجلاس میں روس، چین اور پاکستان کی غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد پیش کرنے کا مسودہ تیار ٹرمپ کا دعوی امن جھوٹا ثابت ہوا، نوبل انعام کی تجویز واپس لی جائے، مولانا فضل الرحمن کا حکومت سے مطالبہ ہماری جنگ ایران سے نہیں، اسکے جوہری پروگرام سے ہے، نائب امریکی صدر جنگ کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل عالم اسلام کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں،ایرانی سفیر رضا امیری مقدم پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، سی پیک میں شمولیت کا خیر مقدمCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے امریکا کے کے جوہری ایران کا کے بعد
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو