زرمبادلہ کے ذخائر میں گزشتہ ہفتے نمایاں کمی ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
کراچی:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی ہوگئی ہے جبکہ رواں ہفتے کے دوران 3 ارب ڈالر سے زائد کے قرض موصول ہوگئے ہیں۔
اسٹیٹ بینک سے جاری اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران دو ارب 65 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی گئی۔
مرکزی بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 20 جون کو 9 ارب 6 کروڑ 45 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے اور زرمبادلہ میں آنے والی یہ کمی کمرشل غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ رواں ہفتے کے دوران 3 ارب 10 کروڑ ڈالر کے کمرشل قرضے اور 50 کروڑ ڈالر کے ملٹی لیٹرل قرضے موصول ہوئے ہیں تاہم یہ رقم 27 جون کو جاری ہونے والے اعدادوشمار میں شامل ہوں گے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 14 ارب 39 کروڑ 74 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں، جن میں سے کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 33 کروڑ 29 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے لاکھ ڈالر ڈالر کے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔