کراچی ایئر پورٹ پر غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز سے پرندہ ٹکرا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
کراچی:
کراچی سے استبول کے لیے اڑان بھرنے والی غیر ملکی ایئر لائن کی پرواز سے پرندہ ٹکرا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹیکسی وے کے بعد اڑان کی تیاری کے دوران پرندہ ہٹ ہوا، پرندہ ٹکرانے کے سبب پرواز کی روانگی روک دی گئی۔
پرواز ٹی کے 709 کو پرندہ ٹکرانے کا واقعہ آج صبح پیش آیا، ایئر پورٹ ٹارمک پر انجینیئرز طیارے کا معائنہ کر رہے ہیں۔ طیارے کے انجن کے پاس پرندے کے پَر ملے ہیں۔
بارش کے بعد ایئرپورٹ پر کیڑے مکوڑوں کی بہتات ہو جاتی ہے اور کیڑوں کو کھانے کے لیے منڈلانے والے پرندے جہازوں سے ٹکرا جاتے ہیں۔
ایئر پورٹ ذرائع کے مطابق پاکستان ایئر پورٹس اتھارٹی نے بارش سے قبل فنل ایریا میں اضافی برڈ شوٹر تعینات کر دیے تھے۔
پرواز کی روانگی آج رات 9 بجے ری شیڈول کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔