خامنہ ای کو مارنے کا منصوبہ بنایا لیکن موقع نہ ملا، اسرائیلی وزیر دفاع کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن "آپریشنل موقع نہ ملنے" کی وجہ سے حملہ نہ ہو سکا۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ خامنہ ای کو اپنے اوپر حملے کا خدشہ تھا، جس کے باعث وہ روپوش ہو گئے اور پاسداران انقلاب کے کمانڈرز سے رابطہ منقطع کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو اسرائیل دوبارہ حملہ کر سکتا ہے اور اس کے لیے انہیں امریکا سے گرین سگنل بھی حاصل ہے۔ تاہم ان کے مطابق ایران کے پاس جوہری تنصیبات کی بحالی کی صلاحیت فی الحال نظر نہیں آ رہی۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک میں تناؤ برقرار ہے، اور امریکا کی حمایت سے اسرائیل ایران کی جوہری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔