بالی ووڈ میں کام ملے نہ ملے پرواہ نہیں ہے، دلجیت دوسانجھ کا انٹرویو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
بھارتی پنجابی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا بالی ووڈ میں کام کرنے یا بھارتی فلم انڈسٹری میں کیریئر بنانے کا کوئی ارادہ یا خواہش نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر دلجیت دوسانجھ کے ایک انٹرویو کا کلپ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہیں یہ کہتے دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی بالی ووڈ میں کام کرنے اور سپر اسٹار بننے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ گلوکار ہیں اور انہیں گلوکاری کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ وہ پنجاب سے ہیں جہاں لوگ خود گانے بناتے ہیں خود گاتے ہیں انہیں کسی سپر اسٹار کی ضرورت نہیں ہوتی۔
https://www.
انہوں نے مزید کہا کہ وہ جب تک چاہیں گے گائیکی کریں گے اور انہیں بالی ووڈ میں کام نہ ملنے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت میں دلجیت دوسانجھ کیخلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی نئی فلم سردار جی 3 میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کیساتھ کام کیا ہے تاہم یہ انٹرویو ماضی کا ہے۔ بھارت میں دلجیت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ پاکستان کے عوام ان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ہانیہ اور ان کی پرفارمنس کو سراہا رہے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بالی ووڈ میں کام دلجیت دوسانجھ نہیں ہے
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔