لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار، بجلی کا ترسیلی نظام شدید متاثر
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے، خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے، گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں پہاڑوں سے برف پگھلنے کے باعث سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور اور گرد و نواح میں شدید طوفان و موسلادھار بارش سے گرمی اور حبس کا زور ٹوٹ گیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے لکشمی چوک، شملہ پہاڑی، ایبٹ روڈ، ڈیوس روڈ، مال روڈ، شادمان، گلبرگ، سکیم موڑ، مغلپورہ، دھرمپورہ، ایئرپورٹ، یتیم خانہ، علامہ اقبال ٹاؤن، وحدت روڈ، مسلم ٹاؤن اور شاہدرہ کے اطراف میں شدید بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔ اس کے علاوہ مزنگ، چوبرجی، شام نگر، اسلامپورہ، بند روڈ، سول سیکرٹریٹ اور انارکلی کے اطراف میں بھی بادل برس پڑے۔
شہر میں تیز آندھی اور بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر ہوگیا، لیسکو کے 178 فیڈرز ٹرپ کر گئے، اکثر علاقوں میں بجلی کی فراہمی بند ہوگئی۔ واضح رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلاب کا الرٹ جاری کیا ہے، خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے، گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں پہاڑوں سے برف پگھلنے کے باعث سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق 26 سے 28 جون تک پنجاب، کے پی اور سندھ میں بارشوں سے 38 افراد جاں بحق جبکہ 43 زخمی ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔