Daily Ausaf:
2026-06-03@07:51:00 GMT

سوشل میڈیا کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

سوشل میڈیا سے مراد وہ پلیٹ فارمز اور ویب سائٹس ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے، معلومات و خیالات کا اشتراک کرنے اور باہمی روابط بنانے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔یہ پلیٹ فارمز عام طور پر آن لائن ہوتے ہیں۔صارفین کو مواد بنانے،شیئر کرنے اور دیگر صارفین کے ساتھ بات چیت کی اجازت دیتے ہیں۔سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز انٹرنیٹ سے جڑے ہوتے ہیں۔جیسے کہ تمام ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز۔اس پلیٹ فارم کے ذریعے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔ معلومات، تصاویر،ویڈیو اور دیگر مواد بھیج سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نیٹ ورک ورچوئل کیرئیر بنانے کا بھی ذریعہ ہے۔جہاں لوگ ایک دوسرے سے کسی طرح کی بھی دلچسپی اور نظریات کی بنیاد پر جڑتے ہیں۔صارفین نہ صرف معلومات کا اشتراک کرتے ہیں بلکہ مواد بھی تخلیق کرتے ہیں۔جیسے کہ تبصرے اور کسی بھی پوسٹ یا تخلیق کو لائک کرنا۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ہر طرح کی معلومات کے پھیلائو کا سب سے بڑا تیز رفتار ذریعہ ہے۔اس کے توسط سے ہر طرح کی خبریں اور معلومات لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کی وجہ اس کا آسان استعمال اور لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی صلاحیت ہے۔سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فائدے ہیں،وہاں نقصانات بھی ہیں جو اکثر رپورٹ نہیں ہوتے۔جو ہوتے بھی ہیں ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔سوشل میڈیا پر دوسروں کی پر آسائش زندگی سے موازنہ،افراد میں بے چینی،ڈپریشن اور احساس محرومی پیدا کرتا ہے۔سوشل میڈیا پر منفی رجحانات کے باعث دماغی صحت پر بھی بہت ہی برے اثرات دیکھے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا سے نیند میں بھی بہت خلل پڑتا ہے۔ سونے سے پہلے سوشل میڈیا پر وقت گزارنا معمول کی نیند کو خراب کر دیتا ہے۔جس سے صحت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔مجموعی صحت متاثر ہوتی ہے۔سوشل میڈیا غنڈہ گردی اور دوسروں کو ہراساں کرنے کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔جس کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے۔سائبر ہراسمنٹ آپ کی پریشانی میں اضافے اور دماغی صحت کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے بغیر آپ کے معمولات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذہن نشین رکھیں جب بھی آپ کو سائبر ہراسمنٹ کا سامنا ہو،فوری ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے رجوع کریں۔جہاں آپ کی شنوائی ہو گی اور ہراساں کرنے والے فرد یا اشخاص کے خلاف نہ صرف ضابطے کے مطابق ایف آئی آر درج ہو سکے گی بلکہ فوری کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکے گی۔
سوشل میڈیا کے جہاں منفی اثرات ہیں۔وہاں اس کے فوائد بھی ہیں جن میں سماجی رابطے،معلومات تک رسائی، تعلیم اور کاروبار میں مدد شامل ہے۔سوشل میڈیا لوگوں کو اپنے دوستوں اور خاندان والوں سے جڑے رہنے میں مدد کرتا ہے۔معلومات اور خبروں تک فوری رسائی تک فراہم کرتا ہے۔کاروبار کے لئے مارکیٹنگ اور کسی بھی پروڈکٹ کے فروغ کا موثر ترین ذریعہ ہے۔علاوہ ازیں لوگوں کو نئے دوست بنانے اور مختلف کمیونیٹیز میں شامل ہونے میں بھی مدد کرتا ہے۔یہ کسی بھی موضوع پر تازہ ترین معلومات اور خبروں تک فوری رسائی کا بھی ذریعہ ہے۔ یہ کسی بھی مسئلے پر رائے اور خیالات کے تبادلے کی بھی سہولت دیتا ہے۔ سوشل میڈیا سے نوجوانوں کے لیئے فروغ تعلیم کا بھی کام لیا جا رہا ہے۔یہ طلبا کو ہر نوعیت کی معلومات حاصل کرنے، تحقیق کرنے اور مختلف مضامین کے اہم امور سیکھنے میں بھی مدد کا باعث ہے۔جہاں تک کاروبار کا تعلق ہے سوشل میڈیا کے ذریعے بہترین مارکیٹنگ ہو رہی ہے۔یہ کسی بھی پروڈکٹ کے فروغ کا با آسان،سستا اور موثر ذریعہ ہے۔کسی بھی کاروبار کو ہدف تک پہنچنے،مصنوعات اورخدمات کو فروغ دینے میں بھی بڑا مددگار ہے۔سوشل میڈیا سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا بھی مرکز ہے۔لوگ اس پر سیاسی اور سماجی مسائل پر بات چیت کرتے ہیں۔ اس بات چیت کے ذریعے سلوشن ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی ہے اور 80 فی صد لوگوں کو اس میں کامیابی ملتی ہے۔کسی بھی مقصد کے لیئے افراد کو متحد کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔سوشل میڈیا لوگوں کو تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنے اور ان صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانے میں بھی بہت مددگار ہے۔ یہ پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ کا بھی کارآمد ذریعہ ہے۔دنیا میں اسے انتہائی طاقتور ذریعہ ابلاغ مانا گیا ہے جس سے لوگ ناصرف معلومات تک رسائی حاصل کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے بھی جڑتے ہیں۔کوئی بھی آلہ بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا۔اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ یہی بات سوشل میڈیا پر صادق آتی ہے۔ اس کا استعمال کرتے وقت محتاط رہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم اگر اس کے مثبت پہلوئوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے تو صرف اپنا وقت برباد کر رہے ہیں۔خاص طور پر سوشل میڈیا نے نئی نسل کو اپنے سحر میں گرفتار کیا ہوا ہے۔ضروری ہے کہ نئی نسل کی ذہن سازی کی جائے تاکہ وہ سب سوشل میڈیا کے مثبت پہلوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔یوں تو بچے کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم چاہیں تو سوشل میڈیا کے مثبت اور فائدہ مند پہلو اجاگر کر کے اسے ایک اچھی تربیت گاہ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔کسی کا قول ہے کمپیوٹر آنے والی نسلوں کو تربیت دے گا اس سے کوئی بھی باشعور انکار نہیں کر سکتا۔سوشل میڈیا کمائی کا بھی بہترین ذریعہ ہے۔ یو ٹیوب پر ذاتی چینلز کے ذریعے لوگ کافی کمائی کر رہے ہیں۔ اسے اپنی آمدن کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ خرید و فروخت کے بہت سارے معاملات و مسائل اس کے ذریعے اب آسان ہو چکے ہیں۔جب سے سمارٹ فونز میں فرنٹ کیمرہ کا آپشن آیا ہے، سیلفی لینے کا رجحان نوجوانوں میں کسی موذی مرض کی طرح پھیل گیا ہے۔موقع بہ موقع تصویریں لی جاتی ہیں،جنہیں مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر پوسٹ کیا جاتا ہے۔ سیلفی لینے کے دوران بہت سے نوجوان خطرات سے دوچار ہوکر موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ لہذا چاہیئے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو ایسا نہ بنائیں کہ جس سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر ہے سوشل میڈیا سوشل میڈیا کے ایک دوسرے سے کرنے اور لوگوں کو کرتے ہیں ذریعہ ہے کے ذریعے میں بھی بھی بہت کرتا ہے کسی بھی کا بھی

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت