یو این سلامتی کونسل کی صدارت؛ پاکستان جامع اور عملی نتائج کے حصول کیلیے پُرعزم ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یو این سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے کے بعد پاکستان جامع اور عملی نتائج کے حصول کے لیے پُرعزم ہے۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آج پاکستان جولائی 2025ء کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال رہا ہے۔ یہ صدارت پاکستان کے بطور منتخب رکن آٹھویں دور (2025-26) کے دوران حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ ذمے داری عاجزی، پختہ یقین اور اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی نظام سے گہری وابستگی کے ساتھ سنبھال رہا ہے۔ہماری صدارت ایسے وقت میں آ رہی ہے جب دنیا بھر میں تنازعات اور انسانی بحران شدت اختیار کر رہے ہیں۔
Today, Pakistan assumes the Presidency of the UN Security Council for July 2025, during its 8th term (2025–26) as an elected member of the UNSC.
Pakistan takes on this responsibility with humility, conviction and profound commitment to the UN Charter, international law, and… — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) July 1, 2025
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم سلامتی کونسل کو ایسے مؤثر اور بروقت اقدامات کی طرف لے جانے کی بھرپور کوشش کریں گے جو مکالمے، سفارت کاری اور پرامن حل پر مبنی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان شا اللہ، اس ماہ کے دوران میں 2 اعلیٰ سطح نمائندہ اجلاسوں کی صدارت کروں گا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ کثیرالطرفہ نظام اور تنازعات کے پرامن حل کے ذریعے عالمی امن و سلامتی کا قیام، اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون پاکستان کی ترجیح رہے گا۔ اس کے علاوہ فلسطین کے مسئلے پر سہ ماہی اوپن بحث کی بھی صدارت کروں گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر جامع، متوازن اور عملی نتائج کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اسحاق ڈار نے کہا کہ کی صدارت
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔