Express News:
2026-07-24@04:56:44 GMT

مہنگائی اور معیشت کا چیلنج

اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 4.49 فی صد کی ریکارڈ کی گئی۔

وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے لیے سالانہ مہنگائی کا ہدف 12 فی صد مقرر کیا تھا۔ آئی ایم ایف نے مالی سال کے شروع میں اس کا تخمینہ 15 فی صد لگایا تھا لیکن بعد ازاں اسے کم کردیا، البتہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے دونوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آگئی۔

 ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہے، جہاں خوراک، توانائی اور درآمدات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مہنگائی کی اس بلند لہر جیسی صورتحال کے پیش نظر ماہرین سخت مالی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔پاکستان میں حکومت کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.

49 فیصد رہی، جو اب بھی خطے کے کئی ممالک سے بہتر تصور کی جا سکتی ہے۔

مہنگائی میں اس نمایاں کمی کا براہ راست اثر پالیسی ریٹ پر بھی پڑا جو کہ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آگیا ہے، یہ شرح سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے نہایت موزوں ہے۔ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ گزشتہ مالی سال میں 8 ارب ڈالر سرپلس رہا جب کہ جون 2025 ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ تین سالہ معاہدہ کیا جس سے معیشت کی میکرو اکنامک بنیادیں مضبوط ہوئیں۔

حکومت، عوامی خدشات کے برخلاف کوئی منی بجٹ نہیں لائی اور نہ ہی مالیاتی اہداف سے انحراف کیا گیا۔ یعنی حکومت کی مالی حکمت عملی موثر رہی ہے۔ مالی سال 2025ء میں سب سے نمایاں پیش رفت کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی صورت میں دیکھنے کو ملی، جو 1.81 ارب ڈالر رہا۔ یہ پچھلے سال کے 1.6 ارب ڈالر کے خسارے سے واضح بہتری ہے۔ یہ بہتری ترسیلات زر میں 28.8 فیصد اضافے کی مرہون منت ہے، جو 34.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، لیکن دوسری جانب عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے باوجود حکومت 129 کھرب روپے سے زائد ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، مجموعی طور پر محصولات میں گزشتہ سال کی نسبت 26 فیصد یا24.3 کھرب روپے زائد اضافہ ہوا۔

عبوری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے ختم ہونیوالے مالی سال میں117.3 کھرب روپے کی وصولیاں کی، جو ہدف سے تقریباً 12 کھرب روپے کم ہیں۔ حکومت نے 129.7 کھرب کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے پر اضافی بوجھ، پیکٹ دودھ سمیت لگ بھگ تمام اشیائے ضرورت پر ٹیکس لگایا، مگر غیر حقیقی ٹیکس ہدف، معاشی سست روی اور شرح مہنگائی میں مسلسل کمی محصولات میں26 فیصد اضافہ ممکن نہ بنایا جا سکا، تاجر دوست اسکیم کے تحت دکان داروں سے50 ارب روپے انکم ٹیکس حاصل نہ ہوا۔

 پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے ۔حکومت کی جانب سے پٹرول 8 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اس شرح سے زیادہ کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہمیشہ سے عام آدمی کے لیے ایک کرب ناک خبر رہا ہے۔ جب کبھی پٹرول، ڈیزل یا مٹی کا تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا پہلا اور سب سے زیادہ اثر ان افراد پر پڑتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں۔ یہ اضافہ صرف گاڑیوں کا ایندھن مہنگا کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ روزمرہ زندگی کے ہر پہلو پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اشیائے خورونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، چھوٹے کاروبار دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، اور ایک عام مزدور یا تنخواہ دار طبقہ اپنے اخراجات پورے کرنے میں بے بس ہو جاتا ہے۔ ڈیزل اور پٹرول مہنگے ہوتے ہیں تو مال بردار گاڑیوں، بسوں، ویگنوں اور رکشوں کے کرائے بڑھا دیے جاتے ہیں۔

اس کے نتیجے میں جب اشیائے ضروریہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہیں تو ان پر اٹھنے والی لاگت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جو بالآخر صارف کو اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں، آٹے، چینی، دال، سبزی، گوشت، دودھ، انڈے حتیٰ کہ ہر چھوٹی بڑی شے کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔

یہ صورتحال ایک عام شہری کی مالی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہے، وہ شخص جس کی ماہانہ آمدنی پہلے ہی محدود ہو، اب اسے وہی پرانے پیسوں سے نئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہنگائی صرف جیب پر بوجھ نہیں ڈالتی بلکہ ذہنی دباؤ، گھریلو جھگڑے اور سماجی عدم توازن کا بھی باعث بنتی ہے۔

صنعتیں جو خام مال یا تیار شدہ سامان کی ترسیل کے لیے ایندھن پر انحصار کرتی ہیں، ان کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جب صنعتکار کو اپنی مصنوعات مہنگے داموں تیار کرنی پڑتی ہیں، تو وہ یہ بوجھ صارف پر منتقل کر دیتا ہے۔ یوں ایک دائرہ بنتا ہے جہاں قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں، اور صارف مسلسل پس پشت رہتا ہے۔ ملک میں جب مہنگائی کا یہ طوفان زور پکڑتا ہے تو اس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، غربت میں اضافہ ہوتا ہے، اور مجموعی طور پر ملک کی اقتصادی ترقی سست پڑ جاتی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو جنم دیتا ہے جسے معاشی اصطلاح میں ’’ کاسٹ پُش انفلیشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب پیداوار کی لاگت بڑھتی ہے تو اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس قسم کی مہنگائی کو کنٹرول کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بنیادی لاگت سے جڑی ہوتی ہے۔ حکومت اگر چاہے بھی تو فوری طور پر قیمتوں کو کم نہیں کر سکتی، اور جب تک یہ قیمتیں نیچے نہیں آتیں، تب تک صارفین کو مہنگی اشیا خریدنا ہی پڑتی ہیں۔

ایک اور مسئلہ جو مہنگائی کے ساتھ آتا ہے وہ افراطِ زر ہے۔ جب چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں تو لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ وہ چیزیں خریدنے سے گریز کرتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں طلب کم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں، کسان جو فصلوں کو منڈیوں تک لے جانے کے لیے ٹرک یا ٹریکٹر استعمال کرتے ہیں، ان کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ کھاد، بیج، کیڑے مار ادویات سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اشیا درآمد کی جاتی ہیں یا پٹرولیم مصنوعات سے جُڑی ہوتی ہیں۔ یوں کسان کی آمدنی گھٹتی ہے، لیکن اس کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔

اس مسئلے کا ایک دیرپا حل یہ ہے کہ توانائی کے متبادل ذرایع پر توجہ دی جائے۔ سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور جیسے ذرایع اگر ترقی دی جائیں تو ملکی انحصار درآمدی تیل پر کم ہو سکتا ہے۔ حکومت اگر ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے، تو مستقبل میں مہنگائی کے جھٹکوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جامع اقتصادی پالیسی بنائے جو صرف وقتی ریلیف پر نہیں بلکہ طویل مدتی استحکام پر مبنی ہو۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول کیا جائے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔

صرف یہی نہیں بلکہ قیمتوں پر کڑی نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف شفاف قانونی نظام بھی قائم کیا جائے۔مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک معاشرتی، نفسیاتی اور سیاسی مسئلہ بھی ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو سب کچھ جلا کر رکھ دیتی ہے اگر اسے وقت پر قابو نہ کیا جائے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل اس نظام کی ناکامی کی علامت ہے جو عوامی فلاح کے بجائے وقتی اقدامات پر انحصار کرتا ہے۔

جب تک ہم اس نظام کو ٹھیک نہیں کریں گے، یہ مسائل بار بار ہمارے دروازے پر دستک دیتے رہیں گے۔ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے ایک متوازن، طویل المدتی اور عوام دوست پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت، نجی شعبہ، اور عوام۔ سب کو مل کر ایک ایسا نظام بنانا ہو گا جہاں پٹرول کی قیمت بڑھے تو عام آدمی پر اس کا اثر نہ پڑے، جہاں معیشت مضبوط ہو اور مہنگائی قابو میں رہے، اور جہاں ہر شخص اپنی زندگی سکون سے گزار سکے۔ جب تک ہم اس خواب کو حقیقت میں نہیں بدلیں گے، تب تک مہنگائی کا آسیب ہمارے سر پر منڈلاتا رہے گا اور ایک عام آدمی ہر دن ایک نئی آزمائش سے گزرے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں میں اضافہ کھرب روپے ارب ڈالر مالی سال جاتی ہیں کیا جائے بڑھ جاتی ہوتے ہیں ہوتا ہے جاتی ہے کی لاگت جاتا ہے ہو جاتی کیا جا کے لیے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم