وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 4.49 فی صد کی ریکارڈ کی گئی۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2024-25 کے لیے سالانہ مہنگائی کا ہدف 12 فی صد مقرر کیا تھا۔ آئی ایم ایف نے مالی سال کے شروع میں اس کا تخمینہ 15 فی صد لگایا تھا لیکن بعد ازاں اسے کم کردیا، البتہ حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے دونوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آگئی۔
ترقی پذیر ممالک میں مہنگائی پر قابو پانا ایک مسلسل چیلنج ہے، جہاں خوراک، توانائی اور درآمدات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مہنگائی کی اس بلند لہر جیسی صورتحال کے پیش نظر ماہرین سخت مالی نظم و ضبط اور پالیسی اصلاحات پر زور دے رہے ہیں۔پاکستان میں حکومت کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.
مہنگائی میں اس نمایاں کمی کا براہ راست اثر پالیسی ریٹ پر بھی پڑا جو کہ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آگیا ہے، یہ شرح سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے نہایت موزوں ہے۔ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ گزشتہ مالی سال میں 8 ارب ڈالر سرپلس رہا جب کہ جون 2025 ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے ساتھ تین سالہ معاہدہ کیا جس سے معیشت کی میکرو اکنامک بنیادیں مضبوط ہوئیں۔
حکومت، عوامی خدشات کے برخلاف کوئی منی بجٹ نہیں لائی اور نہ ہی مالیاتی اہداف سے انحراف کیا گیا۔ یعنی حکومت کی مالی حکمت عملی موثر رہی ہے۔ مالی سال 2025ء میں سب سے نمایاں پیش رفت کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی صورت میں دیکھنے کو ملی، جو 1.81 ارب ڈالر رہا۔ یہ پچھلے سال کے 1.6 ارب ڈالر کے خسارے سے واضح بہتری ہے۔ یہ بہتری ترسیلات زر میں 28.8 فیصد اضافے کی مرہون منت ہے، جو 34.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، لیکن دوسری جانب عوام پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے باوجود حکومت 129 کھرب روپے سے زائد ٹیکس ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، مجموعی طور پر محصولات میں گزشتہ سال کی نسبت 26 فیصد یا24.3 کھرب روپے زائد اضافہ ہوا۔
عبوری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر نے ختم ہونیوالے مالی سال میں117.3 کھرب روپے کی وصولیاں کی، جو ہدف سے تقریباً 12 کھرب روپے کم ہیں۔ حکومت نے 129.7 کھرب کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے پر اضافی بوجھ، پیکٹ دودھ سمیت لگ بھگ تمام اشیائے ضرورت پر ٹیکس لگایا، مگر غیر حقیقی ٹیکس ہدف، معاشی سست روی اور شرح مہنگائی میں مسلسل کمی محصولات میں26 فیصد اضافہ ممکن نہ بنایا جا سکا، تاجر دوست اسکیم کے تحت دکان داروں سے50 ارب روپے انکم ٹیکس حاصل نہ ہوا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں اضافہ کردیا ہے ۔حکومت کی جانب سے پٹرول 8 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد ٹرانسپورٹرز نے اس شرح سے زیادہ کرایوں میں اضافہ کردیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہمیشہ سے عام آدمی کے لیے ایک کرب ناک خبر رہا ہے۔ جب کبھی پٹرول، ڈیزل یا مٹی کا تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا پہلا اور سب سے زیادہ اثر ان افراد پر پڑتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوتے ہیں۔ یہ اضافہ صرف گاڑیوں کا ایندھن مہنگا کرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ روزمرہ زندگی کے ہر پہلو پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اشیائے خورونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، چھوٹے کاروبار دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، اور ایک عام مزدور یا تنخواہ دار طبقہ اپنے اخراجات پورے کرنے میں بے بس ہو جاتا ہے۔ ڈیزل اور پٹرول مہنگے ہوتے ہیں تو مال بردار گاڑیوں، بسوں، ویگنوں اور رکشوں کے کرائے بڑھا دیے جاتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں جب اشیائے ضروریہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہیں تو ان پر اٹھنے والی لاگت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، جو بالآخر صارف کو اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں، آٹے، چینی، دال، سبزی، گوشت، دودھ، انڈے حتیٰ کہ ہر چھوٹی بڑی شے کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں۔
یہ صورتحال ایک عام شہری کی مالی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہے، وہ شخص جس کی ماہانہ آمدنی پہلے ہی محدود ہو، اب اسے وہی پرانے پیسوں سے نئی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مہنگائی صرف جیب پر بوجھ نہیں ڈالتی بلکہ ذہنی دباؤ، گھریلو جھگڑے اور سماجی عدم توازن کا بھی باعث بنتی ہے۔
صنعتیں جو خام مال یا تیار شدہ سامان کی ترسیل کے لیے ایندھن پر انحصار کرتی ہیں، ان کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے۔ جب صنعتکار کو اپنی مصنوعات مہنگے داموں تیار کرنی پڑتی ہیں، تو وہ یہ بوجھ صارف پر منتقل کر دیتا ہے۔ یوں ایک دائرہ بنتا ہے جہاں قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں، اور صارف مسلسل پس پشت رہتا ہے۔ ملک میں جب مہنگائی کا یہ طوفان زور پکڑتا ہے تو اس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، غربت میں اضافہ ہوتا ہے، اور مجموعی طور پر ملک کی اقتصادی ترقی سست پڑ جاتی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کو جنم دیتا ہے جسے معاشی اصطلاح میں ’’ کاسٹ پُش انفلیشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب پیداوار کی لاگت بڑھتی ہے تو اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ اس قسم کی مہنگائی کو کنٹرول کرنا خاصا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہ بنیادی لاگت سے جڑی ہوتی ہے۔ حکومت اگر چاہے بھی تو فوری طور پر قیمتوں کو کم نہیں کر سکتی، اور جب تک یہ قیمتیں نیچے نہیں آتیں، تب تک صارفین کو مہنگی اشیا خریدنا ہی پڑتی ہیں۔
ایک اور مسئلہ جو مہنگائی کے ساتھ آتا ہے وہ افراطِ زر ہے۔ جب چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں تو لوگوں کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے۔ وہ چیزیں خریدنے سے گریز کرتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں طلب کم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں سست ہو جاتی ہیں، کسان جو فصلوں کو منڈیوں تک لے جانے کے لیے ٹرک یا ٹریکٹر استعمال کرتے ہیں، ان کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ کھاد، بیج، کیڑے مار ادویات سب کچھ مہنگا ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اشیا درآمد کی جاتی ہیں یا پٹرولیم مصنوعات سے جُڑی ہوتی ہیں۔ یوں کسان کی آمدنی گھٹتی ہے، لیکن اس کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
اس مسئلے کا ایک دیرپا حل یہ ہے کہ توانائی کے متبادل ذرایع پر توجہ دی جائے۔ سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور جیسے ذرایع اگر ترقی دی جائیں تو ملکی انحصار درآمدی تیل پر کم ہو سکتا ہے۔ حکومت اگر ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے، تو مستقبل میں مہنگائی کے جھٹکوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت جامع اقتصادی پالیسی بنائے جو صرف وقتی ریلیف پر نہیں بلکہ طویل مدتی استحکام پر مبنی ہو۔ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، غیر ضروری درآمدات پر کنٹرول کیا جائے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔
صرف یہی نہیں بلکہ قیمتوں پر کڑی نگرانی، ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف شفاف قانونی نظام بھی قائم کیا جائے۔مہنگائی صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک معاشرتی، نفسیاتی اور سیاسی مسئلہ بھی ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو سب کچھ جلا کر رکھ دیتی ہے اگر اسے وقت پر قابو نہ کیا جائے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دراصل اس نظام کی ناکامی کی علامت ہے جو عوامی فلاح کے بجائے وقتی اقدامات پر انحصار کرتا ہے۔
جب تک ہم اس نظام کو ٹھیک نہیں کریں گے، یہ مسائل بار بار ہمارے دروازے پر دستک دیتے رہیں گے۔ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لیے ایک متوازن، طویل المدتی اور عوام دوست پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت، نجی شعبہ، اور عوام۔ سب کو مل کر ایک ایسا نظام بنانا ہو گا جہاں پٹرول کی قیمت بڑھے تو عام آدمی پر اس کا اثر نہ پڑے، جہاں معیشت مضبوط ہو اور مہنگائی قابو میں رہے، اور جہاں ہر شخص اپنی زندگی سکون سے گزار سکے۔ جب تک ہم اس خواب کو حقیقت میں نہیں بدلیں گے، تب تک مہنگائی کا آسیب ہمارے سر پر منڈلاتا رہے گا اور ایک عام آدمی ہر دن ایک نئی آزمائش سے گزرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں میں اضافہ کھرب روپے ارب ڈالر مالی سال جاتی ہیں کیا جائے بڑھ جاتی ہوتے ہیں ہوتا ہے جاتی ہے کی لاگت جاتا ہے ہو جاتی کیا جا کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔