اپوزیشن کا اسپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
لاہور:
اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اپوزیشن کے 26 ارکان کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر ریفرنس کے معاملے پر اپوزیشن جماعت نے آئندہ ہفتے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ذرائع اپوزیشن کے مطابق آئندہ ہفتے ریفرنس اور اسپیکر کی رولنگ کے خلاف پٹیشن دائر کی جائے گی جبکہ پٹیشن میں اسپیکر پنجاب اسمبلی کو فریق بنایا جائے گا۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی نے ریفرنس سے متعلق پارٹی قیادت و قانونی ماہرین سے مشاورت کی، جس میں ریفرنس کے نکات اور اسپیکر کی جانبداری پر پٹیشن تیار کی جائے گی۔
پنجاب اسمبلی میں حکومتی وزراء اور ارکان کے احتجاج کی فوٹیج کو بھی پٹیشن کا حصہ بنایا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف پنجاب کے اہم مشاورتی اجلاس میں اپوزیشن کی رائے تھی کہ احتجاج پر اپوزیشن کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تو حکومت ارکان کے خلاف کیوں نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر کی جانب سے عمر عطا بندیال کے جس فیصلے کو نظیر بنا کر ریفرنس تیار کیا گیا ہے اسکے خلاف قاضی فائز عیسیٰ فیصلہ دے چکے ہیں۔ اسپیکر کو پارلیمانی لیڈر کی جانب سے کوئی ایسا مکتوب نہیں ملا کہ معطل ہونے والے ارکان انکے احکامات یا ہدایات پر عمل نہیں کر رہے۔
اپوزیشن اسپیکر کے ریفرنس کے خلاف الیکشن کمیشن میں اپنا کیس لڑے گی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت