پیرس:

فرانس کی فوج اور انٹیلیجینس ایجنسی نے مئی میں پاک-بھارت کشیدگی کے دوران رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد فرانسیسی ساختہ طیاروں کی گرتی ہوئی مانگ پر ردعمل دیتے ہوئے چین پر الزامات عائد کردیے ہیں جبکہ چین نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

خبررساں ادارے فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق فرانس کی فوج اور انٹیلیجینس عہدیداروں نے کہا ہے کہ چین نے مئی میں پاک-بھارت کشیدگی کے بعد اپنے سفارت خانوں میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کی کارکردگی کے حوالےسے شکوک پھیلانے کے لیے نئی تعیناتیاں کی ہیں تاکہ طیاروں کی شہرت اور فروخت میں کمی ہو۔

فرانس کی انٹیلیجینس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے سفارت خانوں میں دفاعی اتاشی کی سربراہی میں رافیل کی فروخت میں کمی لانے اور خصوصاً انڈونیشیا سمیت ان ممالک کو اپنے مؤقف سے قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو فرانسیسی طیارے خریدنے کا معاہدہ کرچکے ہیں، وہ یہ طیارے مزید نہ خریدے اور چینی طیارے خریدنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

فرانس کے فوجی عہدیداروں نے مذکورہ رپورٹ انٹیلیجینس ایجنسی سمیت ان کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر  خبرایجنسی کا فراہم کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رافیل طیاروں اور دیگر دفاعی سازوسامان کی فروخت فرانس کی دفاعی صنعت اور حکومت کی دوسرے ممالک سے تعلقات مضبوط کرنے سمیت بڑا کاروباری شعبہ ہے، ان ممالک میں ایشیا کے کئی ممالک بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے ہاتھوں بھارت کے زیراستعمال تباہ ہونے والے رافیل طیاروں سے متعلق اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت کے 5 طیارے گرائے ہیں، جن میں سے 3 رافیل تھے جبکہ بھارت نے طیاروں کے نقصانات کا اعتراف کیا تھا لیکن تعداد نہیں بتائی تھی۔

مزید بتایا گیا کہ فرانس کی فضائیہ کے سربراہ جنرل جیروم بیلانگر نے کہا تھا کہ اس نے بھارت کے تین اقسام کے نقصانات کا مشاہدہ کیا ہے جن میں ایک رافیل، ایک روسی ساختہ سوخوئی اور میراج 2000 شامل ہے۔

فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ رافیل خریدنے والے تمام ممالک نے اس حوالے سے سوالات پوچھے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی حکام رافیل طیاروں کی شہرت کو پہنچنے والے نقصان کا دفاع کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور اسی لیے انہوں نے پاکستان اور اس کے اتحادی چین پر آن لائن رافیل کی بدنامی اور ڈس انفارمیشن پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ثبوت کے طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹس، تباہ ہونے والے رافیل طیاروں کا ملبہ بڑھا چڑھا کر دکھانا، اے آئی سے بنایا گیا مواد اور اس سے مشابہت رکھنے والی ویڈیو گیمز کا مواد پیش کیا گیا ہے۔

فرانسیسی ریسرچرز کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران ایک ہزار سے زائد نئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں جو چین کی تیار کردہ ٹیکنالوجی کی برتری ثابت کرنے کا بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔

فرانس کے فوجی عہدیداروں نے کہا کہ رافیل کے حوالے سے ہونے والے آن لائن مہم کو براہ راست چین کی حکومت سے جوڑنے کے حوالے سے ان کے پاس ثبوت ہیں۔

فرانسیسی انٹیلیجینس سروس نے کہا کہ چین کے سفارت خانے کے دفاعی اتاشی دوسرے ممالک کے سیکیورٹی اور دفاعی عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں اسی طرح کا بیانیہ پیش کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھارتی ائیرفورس کے رافیل کی کارکردگی انتہائی خراب تھی۔

ادھر چین نے رافیل طیاروں کے حوالے سے عائد کیے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

بیجنگ میں نیشنل ڈیفنس کی وزارت نے بیان میں کہا کہ مذکورہ دعوے مکمل طور پر بے بنیاد افواہیں اور الزامات ہیں کیونکہ چین دفاعی برآمدات میں ایک ذمہ دارانہ رویہ رکھتا ہے اور علاقائی اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فرانس کی ڈیسالٹ ایوی ایشن نے اب تک 533 رافیل طیارے فروخت کیے ہیں، جن میں مصر، بھارت، قطر، یونان، کروشیا، متحدہ عرب امارات، سربیا اور انڈونیشیا کو فروخت کیے گئے 323 طیارے بھی شامل ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ انڈونیشیا نے 42 رافیل طیاروں کا آرڈر دے دیا ہے اور مزید طیارے خریدنے پر غور کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رافیل طیاروں طیاروں کی بتایا گیا رپورٹ میں گیا ہے کہ رافیل کی فرانس کی بھارت کے حوالے سے کے حوالے نے کہا کہ چین

پڑھیں:

فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا

بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔

فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔

ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔

متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔

سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔

ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔

سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔

اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔

خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔

ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔

ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔

2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔

استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔

یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔

امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔

اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا