شہید ہونیوالے محمد عرفان کا تعلق ڈیرہ غازی خان، صابر حسین کا تعلق کامونکی گوجرانوالہ، محمد آصف کا تعلق چوک قریشی ڈیرہ غازی خان، غلام سعید کا تعلق خانیوال اور محمد جنید کا تعلق لاہور سے ہے۔ ایک شہید محمد بلال کا تعلق اٹک سے اور بلاول کا تعلق گجرات سے ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے شہداء کی میتیں وصول کرنے کے بعد متعلقہ علاقوں کیلئے روانہ کردیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان میں بسوں سے اُتار کر  بے دردی سے شہید ہونیوالے بیگناہ افراد کی لاشوں کو کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری نے وصول کر لیا۔ شہید ہونیوالوں کا تعلق لاہور، گجرات، خانیوال، گوجرانولہ، لودھراں، ڈیرہ غازی خان اور چوک قریشی سے ہے۔ شہید ہونیوالے دو بھائی جابر اور عثمان دنیا پور لودھراں کے رہائشی تھے، جو اپنے باپ کے جنازے میں شرکت کیلئے پنجاب آ رہے تھے۔ شہید ہونیوالے محمد عرفان کا تعلق ڈیرہ غازی خان، صابر حسین کا تعلق کامونکی گوجرانوالہ، محمد آصف کا تعلق چوک قریشی ڈیرہ غازی خان، غلام سعید کا تعلق خانیوال اور محمد جنید کا تعلق لاہور سے ہے۔ ایک شہید محمد بلال کا تعلق اٹک سے اور بلاول کا تعلق گجرات سے ہے۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے شہداء کی میتیں وصول کرنے کے بعد متعلقہ علاقوں کیلئے روانہ کر دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شہید ہونیوالے ڈیرہ غازی خان کا تعلق

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • لاہور میں ہونیوالی ’’شہید اُمت کانفرنس‘‘ میں ایک اور نشست کا اضافہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں