امریکی کپمنی کے سابق سی ای او کا کولڈ پلے کیخلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
امریکی کمپنی آسٹرونومر Astronomer کے سابق سی ای او اینڈی بائرن نے کولڈ پلے انتظامیہ کیخلاف قانونی جنگ چھیڑنے کا ارادہ کرلیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اینڈی کالڈ پلے منتظمین کیخلاف مقدمہ کرنے والے ہیں اور وہ ان پر بغیر اجازت ویڈیو بنانے اور وائرل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے نجی لمحات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کریں گے۔
آسٹرونومر کے سابق سی ای او کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کولڈ پلے کنسرٹ کے دوران بڑی اسکرین پر وہ اپنی کمپنی کی ایچ آر ہیڈ کے ساتھ معاشقہ لڑاتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
کنسرٹ کا یہ منظر انٹرنیٹ پر آگ کی طرح تیزی سے پھیل گیا تھا اور ساتھ ہی سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر میمز کی بھرمار کردی تھی۔
واضح رہے کہ اس اسکینڈل کے بعد اینڈی بائرن نے Astronomer سے مستعفیٰ ہوگئے تھے جبکہ ان کی مبینہ گرل فرینڈ کمپنی کی ایچ آر ہیڈ نے بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔