بلاول بھٹو زرداری سے منسوب وائرل ویڈیو کے حقیقت سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر 3 جولائی سےمتعدد بھارتی صارفین نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ایک ویڈیو شیئر کرنا شروع کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ بھارت کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ۔ تاہم نجی ٹی وی کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو کی آڈیو میں چھیڑ چھاڑ کی گئی اور اصل مواد کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔
31 جولائی کو ایک بھارتی صارف نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اسکرین کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا: ایک جانب بلاول بھٹو قومی اسمبلی میں اور دوسری جانب بھارتی رکنِ پارلیمنٹ گورو گوگوئی لوک سبھا میں دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں بلاول کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے: کون رات کے اندھیرے میں حملہ کرتا ہے؟ ہم آسانی سے بھارتی وزیراعظم کے سامنے پروپیگنڈہ کر سکتے ہیں، ہمارے لوگ ان کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں ۔
پوسٹ کے کیپشن میں کہا گیا کہ ہمارے لوگ بھارت کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں — بلاول بھٹو۔ ہیلو گورو گوگوئی صاحب، یہ ‘ہمارے لوگ’ کون ہیں جو بلاول بھٹو کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں؟
یہ ویڈیو 1 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھی گئی اور 5,200 سے زائد مرتبہ شیئر کی گئی۔ مزید یہ کہ دیگر بھارتی سوشل میڈیا صارفین اور انسٹاگرام اکاؤنٹس نے بھی یہی ویڈیو شیئر کی، جس سے اس کی وائرل نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ بلاول بھٹو کی تصویر کے ساتھ یہ جعلی بیان بھی گردش کرتا رہا: ہمارے لوگ ان کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں — جسے ہندوتوا نظریات کے حامل اکاؤنٹس نے شیئر کیا اور ان پوسٹس کو مجموعی طور پر 6 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔
تاہم ان میں سے کسی بھی پوسٹ میں نہ تو ویڈیو کی مکمل تفصیل فراہم کی گئی، نہ اس کی اصل تاریخ کا ذکر کیا گیا اور نہ ہی مکمل تقریر کا کوئی لنک دیا گیا۔
وائرل ویڈیو کی حقیقت جاننے کے لیے جب اس کا تجزیہ کیا گیا تو واضح ہوا کہ آڈیو اور بلاول کی لبوں کی حرکت میں مطابقت نہیں تھی، وزیراعظم کے الفاظ غلط انداز میں ادا کیے گئے تھے اور ویڈیو میں ہندی زبان کا استعمال کیا گیا، جو بلاول کی عام تقریر میں نہیں ہوتا۔
ریورس امیج سرچ سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو دراصل 7 مئی 2025 کی ہے، جب بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں چار روزہ پاک بھارت تنازع پر تقریر کی تھی۔
اپنی اصل تقریر میں بلاول بھٹو نے کہا تھاکہ صرف چور اور بزدل رات کے اندھیرے میں حملہ کرتے ہیں، اگر ان میں تھوڑی سی بھی ہمت ہوتی تو دن کی روشنی میں حملے کا اعلان کرتے
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہم کبھی بھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے، لیکن بھارت کو خبردار رہنا چاہیے کیونکہ پاکستان نے ابھی جواب دینا ہے — اور وہ جواب نہ تو رات کے اندھیرے میں دیا جائے گا، نہ جھوٹ پر مبنی ہو گا، بلکہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہو گا۔
اس تقریر کی تصدیق معتبر اداروں کی رپورٹس سے بھی ہوتی ہے، جن میں کہیں بھی بھارتی پارلیمنٹ یا ہمارے لوگ جیسے کسی بیان کا ذکر نہیں۔
لہٰذا، اس وائرل ویڈیو کی بنیاد پر کیا گیا دعویٰ کہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہمارے لوگ بھارت کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں — مکمل طور پر غلط، جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ ویڈیو میں آڈیو کو ایڈیٹ کر کے ایک جعلی بیانیہ گھڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو ہمارے لوگ ویڈیو کی کیا گیا کی گئی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔