کینسر کا علاج؟ روس نے انقلابی اور ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین کے انسانی تجربات کا آغاز کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک) روس کے معروف ادارے گامیلیا نیشنل ریسرچ سینٹر آف ایپیڈیمیالوجی اینڈ مائیکروبیالوجی — جو اس سے قبل اسپوتنک V ویکسین تیار کر چکا ہے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی دنیا کی پہلی ذاتی نوعیت کی mRNA میلانومہ ویکسین کے انسانی تجربات کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔
اس جدید ویکسین کو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ہر مریض کے انفرادی جینیاتی ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا جائے گا، تاکہ یہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام کو خاص طور پر کینسر کے خلیات کو نشانہ بنانے کے قابل بنا سکے۔
ادارے کے ڈائریکٹر الیکزنڈر گنٹسبرگ کے مطابق، یہ ویکسین ستمبر یا اکتوبر 2025 سے روسی آنکولوجی انسٹیٹیوٹس کے تعاون سے انسانی رضاکاروں پر تجرباتی طور پر استعمال کی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آنکولوجی اور پرسنلائزڈ میڈیسن کے میدان میں ایک “سنگِ میل” ثابت ہو گا۔
میلانومہ کیا ہے؟
میلانومہ ایک خطرناک قسم کا جلد کا کینسر ہے، جو میلانوسائٹس (رنگ دینے والے جلدی خلیات) سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ تیزی سے جسم کے دیگر حصوں میں پھیل سکتا ہے۔
mRNA ویکسین کیا ہے؟
mRNA (میسنجر آر این اے) ایک ایسا مالیکیول ہے جو DNA سے حاصل کردہ ہدایات کو خلیے کے اندر موجود پروٹین بنانے والے نظام تک پہنچاتا ہے۔ ویکسینز میں اسے استعمال کر کے جسم کے مدافعتی نظام کو مخصوص بیماریوں سے لڑنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ویکسین کینسر کے علاج میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ہر مریض کے لیے الگ اور مخصوص طریقے سے تیار کی جائے گی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔