5 اگست کو کوئی راستہ بند نہیں تھا، یہ خود جا کر پولیس وین میں بیٹھتے رہے، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان فسادی گروپ ہے، فسادی گروپ ملک کے خلاف سازشیں کرنے سے باز نہیں آتا، فسادی گروپ نے اب 14 اگست کو احتجاج کرنے کی تاریخ دے دی ہے، 14 اگست کو گندے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 5 اگست کو کوئی راستہ بند نہیں تھا کسی کو نہیں روکا گیا، یہ خود جاکر پولیس کی وین میں بیٹھتے رہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات و نشریات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی پرسوں کی ناکام کارروائی پر کچھ نہیں کہہ سکتی، عالیہ حمزہ نے ٹوئٹر پر خود صرف 15 لوگوں کی تاریخی ریلیاں دکھائیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہمارے درمیان فسادی گروپ ہے، فسادی گروپ ملک کے خلاف سازشیں کرنے سے باز نہیں آتا، فسادی گروپ نے اب 14 اگست کو احتجاج کرنے کی تاریخ دے دی ہے، 14 اگست کو گندے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ یاتریوں کا یہاں نہ آنا ہمارے لیے بھی تکلیف کی بات ہے، بھارت نے اپنے ہتھکنڈوں میں کھیل کے ساتھ مذہب کو بھی نہیں بخشا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اداروں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اداروں کو سیاست میں لانا اور طعنہ بازی کرنا بانی کی پرانی عادت ہے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جو ملک کی بہتری کی بات کرے گا بانی کی اس سے دشمنی ہے، جو عوام کی بھلائی کیلئے کام کر رہا ہوگا بانی اس سے دشمنی کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فسادی گروپ اگست کو کرنے کی کہا کہ
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔