3 ماہ بعد بھارتی ایئر چیف کو خیال آیا انہوں نے پاکستانی طیارے تباہ کیے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 3 ماہ کے بعد بھارتی ایئر چیف خواب خرگوش سے جاگ اٹھے اور انہیں خیال آیا کے انہوں نے پاکستانی طیارے تباہ کیے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت میں مودی کی شمشان گھاٹ میں جلی اور راکھ ھوئی سیاست کو زندہ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان سے بدترین شکست پر بوکھلاہٹ، بھارتی ایئرچیف کا 6 پاکستانی طیارے مار گرانے کا مضحکہ خیز بیان
ان کا کہنا تھا کہ مودی وطن میں اور دنیا میں ٹکے ٹوکری ہو چکے ہیں، ایسی بھونڈی کوشش نے بھارت کی رہی سہی ساکھ کو بھی مٹی میں ملا دیا۔
3ماہ کے بعد بھارتی ائیر چیف خواب خرگوش سے جاگ اٹھے خیال آیا کے انہوں نے پاکستانی طیارے تباہ کیے۔ بھارت میں مودی کی شمشان گھاٹ میں جلی اور راکھ ھوئ سیاست کو زندہ کرنے کی ناکام کوشش۔مودی وطن میں اور دنیا میں ٹکے ٹوکری ھو چکے ھیں۔ ایسی بھونڈی کوشش نے بھارت کی رہی سہی ساکھ کو بھی…
— Khawaja M.Asif (@KhawajaMAsif) August 9, 2025
اس سے قبل کیے گئے اپنے ایک ایکس پیغام میں وزیردفاع نے کہا تھا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کہ بھارتی فوج کے سینئر افسران کو ان ناکامیوں کا چہرہ بنایا جا رہا ہے، جو دراصل بھارتی سیاسی قیادت کی اسٹریٹجک کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تین ماہ تک بھارت کی جانب سے کوئی ایسا دعویٰ سامنے نہیں آیا جبکہ پاکستان نے فوری طور پر بین الاقوامی میڈیا کو تفصیلی تکنیکی بریفنگز دیں اور غیر جانب دار مبصرین اور غیر ملکی انٹیلی جنس رپورٹس نے متعدد بھارتی طیاروں، بشمول رافیلز کی تباہی کی تصدیق کی، جس کا اعتراف بعض عالمی رہنماؤں اور بھارتی سیاست دانوں نے بھی کیا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ دونوں ممالک اپنے جنگی طیاروں کے موجودہ اسکواڈرنز کی آزادانہ تصدیق کرائیں، اس سے وہ حقیقت بھی ظاہر ہو جائے گی جسے بھارت چھپانا چاہتا ہے۔
قبل ازیں بھارتی ایئرچیف نے بنگلور میں ایک میموریل لیکچر کے دوران آپریشن سندور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے 6 پاکستانی طیارے مارگرانے کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا تھا۔
بھارتی ایئرچیف نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے پاکستان کے پانچ لڑاکا اورایک ریڈار طیارہ تباہ کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی طیارے انہوں نے تباہ کیے نے کہا
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔