ٹرینیڈاڈ میں کھیلے گئے تیسرے اور فیصلہ کن ون ڈے میچ میں ویسٹ انڈیز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو 202 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی، یوں تین میچوں پر مشتمل سیریز 1-2 سے اپنے نام کر لی۔ یہ تاریخی کامیابی ویسٹ انڈیز کو 34 سال بعد پاکستان کے خلاف کسی ون ڈے سیریز میں حاصل ہوئی۔

کرک انفو کی رپورٹ کے مطابق، ویسٹ انڈیز کی یہ صرف چوتھی فتح ہے جس میں انہوں نے 200 سے زیادہ رنز سے کامیابی حاصل کی۔ ویسٹ انڈیز 2023 کے ورلڈ کپ میں بھی جگہ بنانے میں ناکام رہا تھا۔

پاکستان کی شکست پر شائقین کا شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ایک طرف وہ قومی ٹیم پر تنقید کرتے نظر آ رہے ہیں وہیں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کرتے نظر آئے۔

اطہر سلیم نے پاکستان کی بولنگ پر تنقید پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت پرایسٹ انڈیز کا 200 رنز کرنا بھی مشکل لگ رہا تھا مگر شکریہ پاکستان کی بولنگ کا جنہوں نے آخری 10 اوورز میں 119 رنز لگوا دیے۔

ویسٹ انڈیز کا پاکستان کو جیتنے کے لئے 295 رنز کا ہدف۔۔
ایک وقت پر ان کے 200 بھی مشکل لگ رہے تھے مگر شکریہ پاکستان کی بالنگ کا جنہوں نے آخری 10 اوورز میں 119 رنز لگوا دئے ???? #PAKvWI #cricket pic.

twitter.com/1GWzNqclWD

— Ather Salem® (@Atharsaleem01) August 12, 2025

احمد وڑائچ لکھتے ہیں کہ پاکستان کو 34 سال بعد ویسٹ انڈیز سے ون ڈے سیریز میں شکست، یہ کس کا ویژن ہے؟

پاکستان کو 34 سال بعد ویسٹ انڈیز سے ون ڈے سیریز میں شکست

یہ کس کا ویژن ہے ؟؟؟ pic.twitter.com/LFvOHdfpj1

— Ahmad Warraich (@ahmadwaraichh) August 12, 2025

خالد حسین تاج نے کہا کہ وقت آ گیا ہے محسن نقوی کو چیرمین کرکٹ بورڈ کے عہدے سے فوری طور پر استعفی دینا چاہیے۔ جب سے محسن نقوی چیرمین بنے ہیں پاکستان کرکٹ ٹیم میچ جیتنا بھول گیا، ویسٹ انڈیز جیسے کمزور ٹیم سے ونڈے سیریز ہار گیا، بنگلادیش سے ٹی 20 سیریز ہار گیا، امریکا سے ٹی 20  ورلڈ کپ میں ہار کر پہلے راونڈ میں ہی باہر ہو گیا۔ یہ محسن نقوی کی چیرمینپی سی بی بننے کے بعد پچھلے 18 ماہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی ہے۔

وقت آ گیا ہے محسن نقوی کو چیرمین کرکٹ بورڈ کے عہدے سے فوری طور پر استعفی دینا چاہئے جب سے محسن نقوی چیرمین بنا پاکستان کرکٹ ٹیم میچ جیتنا بھول گیا ویسٹ انڈیز جیسے کمزور ٹیم سے ونڈے سیریز ہار گیا بنگلادیش سے T20 سیریز ہار گیا امریکہ سے T20 ورلڈ کپ میں ہار کر پہلے راونڈ میں ہی باہر… pic.twitter.com/REGbBAiumc

— Khalid Hussain Taj (@KhalidHusainTaj) August 12, 2025

حسین احمد چوہدری لکھتے ہیں کہ پاکستان 34 سال بعد ویسٹ انڈیز سے ونڈے سیریز ہار گیا، پوری ٹیم صرف 92 رنز پر آؤٹ ہو گئی اس کا ذمہ دار کون ہے؟

پاکستان 34 سال بعد ویسٹ انڈیز سے ونڈے سیریز ہار گیا پوری ٹیم صرف 92 رنز پر آؤٹ ۔ ذمہ دار کون ؟؟؟ pic.twitter.com/2EKVwvrO6m

— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) August 13, 2025

عبد الرؤف خان نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین، اس کی مینجمنٹ اور  گورننگ بورڈ ویسٹ انڈیز کے خلاف اس ذلت آمیز شکست پر فی الفور استعفی دے اور کرکٹ بورڈ اہل لوگوں کے حوالے کیا جائے۔ یہ پاکستان کے 25کروڑ عوام کا بورڈ ہے جن کے جذبات بری طرح مجروح کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کتنی دفعہ وہاب ریاض، مصباح الحق، وقار یونس، عاقب جاوید،اظہر محمود، ثقلین مشتاق مشتاق احمد،انضمام،منصور رانا، شاہد اسلم، ندیم خان اور ان جیسے نااہل ترین افراد کو بار بار نوازا گیا اور پاکستان کرکٹ کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ ایسی بدترین پرفارمنس کے حامل لوگوں کو فی الفور بورڈ سے دور کیا جائے۔

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اسکی مینجمنٹ اور گورننگ بورڈ ویسٹ انڈیز کیخلاف اس ذلت آمیز ترین شکست پر فی الفور استعفی دے اور کرکٹ بورڈ اہل اور competent لوگوں کے حوالے کیا جائے۔ یہ پاکستان کے 25کروڑ عوام کا بورڈ ہے جن کے جذبات بری طرح مجروح کئے جا رہے ہیں۔ کتنی دفعہ وہاب ریاض، مصباح…

— Abdur Rouf Khan (@AbdurRoufKhan6) August 12, 2025

طارق متین نے کہا کہ 34 سال بعد ہم ویسٹ انڈیز سے ون ڈے سیریز ہارے ہیں۔ اس ذلت کا سہرا صرف محسن نقوی کے سر نہیں۔

چونتیس سال بعد ہم ویسٹ انڈیز سے ون ڈے سیریز ہارے ہیں۔ اس ذلت کا سہرا صرف محسن نقوی کے سر نہیں۔

— Tariq Mateen (@tariqmateen) August 12, 2025

قادر خواجہ نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ایک تصویر شیئر کی جس میں انہیں مسکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ سیریز میں بدترین شکست اور مسکراہٹیں بتارہی ہیں کہ ان کو شائقین کرکٹ کے جذبات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

سیریز میں بدترین شکست اور مسکراہٹیں بتارہی ہیں کہ انکو شائقین کرکٹ کے جذبات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے….#PakistanCricket pic.twitter.com/uiuXbK6J8e

— Qadir Khawaja (@iamqadirkhawaja) August 12, 2025

ایک صارف نے پاکستان کی شکست کا ذمہ دار بابر اعظم، محمد رضوان اور محسن نقوی کو قرار دیا۔

Root cause of destruction of Pakistan Cricket #PakvsWI #PakistanCricket pic.twitter.com/PnQFsh3WOR

— ???????????? (@TheAngrrybird) August 12, 2025

ایک ایکس صارف نے سوال کیا کہ پاکستان کرکٹ کے بدترین زوال کا زمہ دار کون ہے؟

پاکستان کرکٹ کے بدترین زوال کا زمہ دار کون؟#PakvWI #PakvsWI @tapmadtv pic.twitter.com/3gKf7GfXhn

— Abdul Ghaffar ???????? (@GhaffarDawnNews) August 12, 2025

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پاکستان کی شکست محسن نقوی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز پاکستان کی شکست محسن نقوی ویسٹ انڈیز سے ون ڈے سیریز سال بعد ویسٹ انڈیز سے ون ون ڈے سیریز میں پاکستان کرکٹ کرکٹ بورڈ کے کو 34 سال بعد پاکستان کو یہ پاکستان پاکستان کی محسن نقوی نے کہا کہ کے جذبات کرکٹ کے دار کون ہیں کہ اس ذلت

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی