باجوڑ کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی جاری، دفعہ 144 نافذ
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
خیبرپختونخوا ضلع باجوڑ کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ کارروائی جاری ہے،مقامی انتظامیہ نے ضلع کے مختلف علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کردی ہے۔
ڈپٹی کمشنر باجوڑ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ باجوڑ میں دہشتگردوں کے خلاف جاری کارروائی کے باعث مختلف علاقوں میں دفعہ 144 نافذ ہے، محکمہ داخلہ خیبر پختونخواہ کی منظوری کے بعد یہ حکم نامہ آج 16 اگست 2025 شام 5 بجے سے 21 اگست 2025 شام 5 بجے تک مؤثر رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: جرگے کی ناکامی کے بعد باجوڑ میں آپریشن شروع، لیکن جرگہ ناکام کیوں ہوا؟
حکمنامے کے تحت شہریوں کو گھروں سے نکلنے اور سڑکوں پر آنے کی سختی سے ممانعت ہو گی۔ اس دوران کسی بھی قسم کی نقل و حرکت پر پابندی عائد رہے گی تاکہ جاری کارروائی کے دوران عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔
دفعہ 144 کا نفاذ ضلع باجوڑ کے علاقوں مینہ سلیمان خیل، خوڑ چئی، چمیار جوڑ، ذگئی، گٹ، اگرہ، غنڈ کی، زری، دختر، ملا کلے، بکرو، گوائی، چمیالوں، لر کلان، بر کلان، غنم شاہ، چوترہ، ڈمہ ڈولہ، سلطان بیگ، انعام خورو اور انگا،ملنگی، سپرائی اور دواو گئی میں کیا گیا ہے.
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کی حکومت باجوڑ کے معاملے پر ہمارے ساتھ ہے، طلال چوہدری
ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ اوقات کے دوران اپنی سرگرمیاں ختم کر کے گھروں تک محدود رہیں۔ عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی صورت میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔
انتظامیہ نے مزید کہا ہے کہ یہ اقدامات صرف اور صرف شہریوں کی سلامتی اور دہشتگردوں کے خلاف جاری کارروائی کو کامیاب بنانے کے لیے کیے جارہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news باجوڑ ٹارگیٹڈ کارروائی خیبرپختونخوا دفعہ 144 ڈپٹی کمشنر ملٹری آپریشن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: باجوڑ خیبرپختونخوا ڈپٹی کمشنر ملٹری آپریشن مختلف علاقوں میں باجوڑ کے کے خلاف
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت