UrduPoint:
2026-06-03@06:31:43 GMT

افغان مہاجرین کی واپسی: جرمنی نے پاکستان پر دباؤ بڑھا دیا

اشاعت کی تاریخ: 19th, August 2025 GMT

افغان مہاجرین کی واپسی: جرمنی نے پاکستان پر دباؤ بڑھا دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 اگست 2025ء) جرمن وزارتِ خارجہ کے ترجمان یوزف ہِنٹر زیہر نے کہا ہے کہ 200 سے زیادہ افغان، جو جرمنی میں پناہ کے منتظر تھے، حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان واپس بھیج دیے گئے ہیں اور جرمن حکومت اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ انہیں واپس آنے کی اجازت دی جائے۔

بے دخل کیے گئے یہ افراد اس گروپ کا حصہ ہیں جنہیں پہلے جرمنی میں پناہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اب وہ جرمن چانسلر فریڈرش میرس کی سخت امیگریشن پالیسی اور پاکستان سے بڑے پیمانے پر ہونے والی بے دخلیوں کے بیچ پھنس گئے ہیں۔

ہِنٹر زیہر نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستانی پولیس نے حال ہی میں تقریباً 450 افغانوں کو گرفتار کیا ہے، جنہیں طالبان کی جانب سے اپنی جان کو خطرہ کے پیش نظر ایک جرمن اسکیم کے تحت پناہ دینے کے لیے تسلیم کیا گیا تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا، ''ہماری معلومات کے مطابق ان میں سے 211 افراد کو افغانستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ''245 افراد کو پاکستان کے ان کیمپوں سے جانے کی اجازت دی گئی، جہاں مجوزہ بے دخلی سے قبل انہیں رکھا گیا تھا۔‘‘

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا،''ہم پاکستان سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان افراد کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے جو پہلے ہی بے دخل کیے جا چکے ہیں۔

‘‘ کتنے افغانوں کو جرمنی میں دوبارہ آباد کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا؟

سن دو ہزار اکیس میں افغانستان سے مغربی افواج کے انخلا کے بعد، جرمنی نے مقامی عملے کو پناہ دینے کا وعدہ کیا تھا جنہوں نے جرمن افواج کی مدد کی تھی۔ نیز ان افغانوں کو بھی جو طالبان کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے پاکستان فرار ہو گئے تھے۔

اب بھی 2,000 سے زیادہ افغان، جنہیں جرمنی کی طرف سے پناہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، پاکستان سے جرمنی جانے کے منتظر ہیں۔

ان میں انسانی حقوق کے محافظ، وکلا، اساتذہ اور صحافی شامل ہیں جو افغانستان میں طالبان کے تحت ظلم و ستم سے خوفزدہ ہیں۔

ان میں تقریباً 350 سابق مقامی عملے اور ان کے اہلِ خانہ بھی شامل ہیں جنہوں نے جرمن اداروں کے ساتھ کام کیا تھا۔

چانسلر میرس کی سخت امیگریشن پالیسی

یہ پروگرام جرمن چانسلر فریڈرش میرس، جنہوں نے مئی میں عہدہ سنبھالا ہے، کے تحت متعارف کرائی گئی سخت امیگریشن پالیسی کے باعث روک دیا گیا ہے۔

جرمن وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ داخلہ پروگرام میں شامل ہر شخص کے لیے انفرادی جائزہ، اور ممکنہ طور پر سکیورٹی اسکریننگ، جاری ہے۔

گزشتہ ہفتے، حقوقِ انسانی کی دو جرمن تنظیموں نے دو جرمن وزیروں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے ویزا کے امیدوار افغانوں کو ''نظرانداز کرنے اور مدد فراہم نہ کرنے کا ارتکاب کیا۔

‘‘

ترجمان کے مطابق، جرمن وزارتِ خارجہ پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے تاکہ ان 211 افراد کو واپس پاکستان لایا جا سکے۔

اس دوران، بے دخل کیے گئے افراد کے لیے افغانستان میں ایک سروس فراہم کرنے والے ادارے کی مدد سے رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے، جب جرمن وزیرِ داخلہ الیگزانڈر ڈوبرنٹ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ افراد جو پہلے ہی پاکستان سے افغانستان واپس بھیجے جا چکے ہیں، اب واپس لائے جا رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جرمن ایجنسی برائے بین الاقوامی تعاون (جی آئی زیڈ) کے ذریعے ان افراد سے رابطہ قائم ہے اور انہیں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان سے افغانوں کو پناہ دینے انہوں نے کیا گیا گیا تھا نے کہا کے لیے

پڑھیں:

وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔

سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزامات

بدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟

صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔

تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرار

طالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔

اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔

بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویر

رپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔

اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے