اپر دیر میں سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک، ایک شہری شہید
اشاعت کی تاریخ: 24th, August 2025 GMT
اپر دیر:
خیبرپختونخوا کے علاقے اپر دیر میں پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے خفیہ اطلاع پر دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اور اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرف ہلاک ہوگئے جبکہ 5 پولیس اہلکار زخمی اور ایک شہری شہید ہوگیا۔
پولیس نے بتایا کہ اپر دیر کے علاقوں دوبندو، بریکوٹ، سلام کوٹ اور اٹنڈرہ میں دہشت گردوں کے خلاف ڈسٹرکٹ پولیس، سی ٹی ڈی، آر آر ایف اور ایلیٹ فورس کے دستوں نے ایک بڑا اور کامیاب آپریشن شروع کر رکھا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اپر دیر سید محمد بلال کی قیادت میں یہ آپریشن بھرپور حکمت عملی کے تحت کیا گیا اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مختلف اطراف سے گھیراؤ کر رکھا ہے تاکہ ان علاقوں کو شدت پسندوں سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔
پولیس آپریشن میں حصہ لینے والے اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کی ٹیمیں جدید ساز و سامان اور ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔
پولیس نے بتایا کہ علاقے میں اہم مقامات اور دہشت گردوں کی نقل و حمل کے راستوں پر اپنی چوکیاں قائم کر دی ہیں اور مربوط آپریشن کے لیے باقاعدہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی قائم ہے۔
پولیس کے مطابق علی الصبح شروع ہونے والے اس آپریشن میں دہشت گردوں کے ساتھ سلام کوٹ کے مقام پر فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس کے نتیجے میں 5 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں اور ان میں سے ایک کی لاش برآمد کر لی گئی ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔
پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک مقامی شہری شہید اور 7 پولیس کانسٹیبل معمولی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مقامی آبادی بھی اس آپریشن میں پولیس کا بھرپور ساتھ دے رہی ہے اور فورسز کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے۔
آئی جی پولیس ذوالفقار حمید نے اس موقع پر اپنے پیغام میں جوانوں کے جذبے، دلیری اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوان وطن کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ان کا عزم آہنی ہے اور ہمیں اپنے جوانوں پر فخر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دہشت گردوں کے اپر دیر ہیں اور
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔