اسلام آباد: پی ٹی آئی این اے 48 کے صدر سہیل ستی کا مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 4 اکتوبر اور 26 نومبر احتجاج کے مقدمات میں پی ٹی آئی این اے 48 کے صدر سہیل ستی کو مزید 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
سہیل ستی کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ڈیوٹی جج عدنان خان نے کیس پر سماعت کی، ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ انصر کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔
ملزم کے وکیل انصر کیانی نے عدالت میں کہا کہ یہ مقدمات غیر قانونی اور سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں، یہ ڈسچارج کرنے کا کیس ہے، عدالت ریمانڈ کی استدعا مسترد کرے۔
عدالت نے پولیس کی مزید ریمانڈ کی استدعا پر ملزم کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پولیس کے حوالے کردیا، سہیل ستی کیخلاف تھانہ کہنہ میں 2 مقدمات درج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سہیل ستی
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔