کراچی، تیز رفتار رکشا الٹنے سے خاتون جاں بحق، نوعمر ڈرائیور کے پاس لائسنس بھی نہیں، پولیس
اشاعت کی تاریخ: 27th, August 2025 GMT
کراچی:
شادمان ٹاؤن کے قریب تیز رفتار رکشا الٹنے سے اس میں سوار خاتون جاں بحق ہوگئی جبکہ پولیس نے بتایا کہ رکشا ڈرائیور نوعمر ہے اور اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں ہے۔
کراچی کے علاقے شادمان ٹاؤن 2 نمبر سخی حسن سے ناگن چورنگی جاتے ہوئے تیز رفتار رکشا الٹنے سے اس میں سوار خاتون جاں بحق ہوگئی جس کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی۔
ہیڈ محرر تھانہ شارع نور جہاں ندیم سجاد نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر رکشا ڈرائیور عبدالرحمان کو حراست میں لیا اور رکشا تھانے منتقل کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 26 سالہ عقیلہ حسن شبیر کے نام سے ہوئی جو بفرزون سیکٹر 16 کے بی آر کی رہائشی بتائی جاتی ہیں۔
انہوں ںے بتایا کہ ڈرائیور 6 سیٹر رکشا ایم 55 چلا رہا تھا جن کے پاس نہ تو ڈرائیونگ لائسنس ہے اور نہ ہی رکشے کے دستاویزات ہیں۔
حادثے کے حوالے سے ایس ایچ او شارع نور جہاں فیض الحسن نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے ڈرائیور کی عمر 17 سال کے قریب ہے جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا اور وہ بغیر لائسنس کے رکشا چلا رہا تھا جو کہ غیر قانونی عمل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ کے پاس
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک