پنجاب شدید سیلاب کی لپیٹ میں، متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث سیلابی صورتحال بدترین شکل اختیار کر گئی ہے۔
لاکھوں کیوسک پانی کے ریلے نے بستیاں ڈبو دیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے جبکہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھیں:کل سے ملک کے کن علاقوں میں دوبارہ بارشیں ہوں گی؟ این ڈی ایم اے نے بتا دیا
میڈیا رپورٹ کے مطابق سیلابی پانی نے قصور، جھنگ، حافظ آباد، پاکپتن، سیالکوٹ، لاہور اور بہاولپور سمیت کئی اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے۔
انتظامیہ اور ریسکیو ادارے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
راول ڈیم کے اسپل وے کھول دیے گئےاین ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق پانی کی سطح 1,751 فٹ تک پہنچنے پر صبح 6 بجے راول ڈیم کے اسپل وے گیٹس کھول دیے گئے۔
کورنگ نالہ میں پانی کے بہاؤ کو قابو کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دریائے چناب اور ستلج میں اونچے درجے کا سیلابفلڈ وارننگ سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب کا بہاؤ کوٹ مومن پر 10 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مڈھ رانجھا سمیت 50 سے زائد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔
گنڈا سنگھ والا پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے اور انتظامیہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکال رہی ہے۔
حافظ آباد اور جھنگ میں تباہیہیڈ قادرآباد پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک سے بڑھ گیا جس کے باعث حافظ آباد کی 75 بستیاں ڈوب گئیں۔
جھنگ کے ٹریمو ہیڈورکس پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے اور ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو خوراک اور چارے کی فراہمی جاری ہے۔
لاہور اور سیالکوٹ میں صورتحالدریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب سے لاہور کے کئی علاقے متاثر ہوئے ہیں، جہاں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پروازیں مزید 24 گھنٹے کے لیے معطل کر دی گئی ہیں تاہم رن وے اور ٹرمینل بلڈنگ محفوظ ہیں۔
متاثرین مشکلات کا شکار، امدادی سرگرمیاں تیزپاکپتن میں بے گھر افراد دریا کے پشتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ متاثرین کے مطابق انہیں خوراک اور پینے کے پانی کی شدید قلت ہے۔
پنجاب پولیس کے 15 ہزار اہلکار ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں اور اب تک 62 ہزار متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
بہاولپور میں شگاف، دیہات زیرِ آببہاولپور میں دریائے ستلج کے زمندارہ بند میں شگاف پڑنے سے دیہات اور ہزاروں ایکڑ اراضی ڈوب گئی ہے۔ ریسکیو حکام نے یوسف والا اور احمد والا بند کو شدید متاثرہ قرار دیا ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کے اقداماتوزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے مطابق آج صرف ایک دن میں 17 سے 20 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں خطرات سے نمٹنے کے لیے 80 ڈیموں پر کام جاری ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کے ڈرونز کے ذریعے متاثرین اور مویشیوں کا سراغ لگانے کے اقدامات کو ’کامیاب حکمتِ عملی‘ قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔