راولپنڈی؛ 7 سالہ بچی کی قبر سے چھیڑ چھاڑ، مٹی کھودی گئی، کفن حویلی سے ملا، والد کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 29th, August 2025 GMT
راولپنڈی:
راولپنڈی کے قبرستان میں دفنائی گی سات سالہ بچی کی قبر سے مبینہ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے جب کہ قریب ہی سفید کپڑا اور روئی پڑی ملی، والد نے پولیس کو اطلاع دی جمعہ کی صبح مجسٹریٹ کی نگرانی میں قبر کشائی کرکے پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس کو سات سالہ مسماتہ علینہ کے والد ظفر اقبال نے بتایا کہ وہ گتجا چوکی کے علاقے گلی نمبر 19 میں رہائش پذیر ہے 7 سالہ بیٹی علینہ 26 اگست کو فوت ہوئی جس کی تدفین خان کالونی والے قبرستان میں کی، جمعرات کی صبح فاتحہ خوانی کے لیے قبرستان گیا تو بیٹی کی قبر سے چھیڑچھاڑ ہوئی تھی اور کفن ملحقہ حویلی میں پڑا ہوا تھا۔
والد نے اطلاع دی تو ایس ایچ او دھمیال ملک اسرار اور پولیس دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے۔
ایس پی صدر نبیل کھوکھر کا کہنا تھا کہ والد کی جانب سے اطلاع ملی ہے تاہم قبر موجود ہے آیا قبر کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کی گئی یا نہیں اس کے کے لیے قبر کشائی کی خاطر عدالت سے اجازت لے لی ہےاس کے بعد ہی صورتحال واضح ہوگی کہ بچی کے والد کی بات درست ہے یا نہیں۔
ادھر پولیس ترجمان کی جانب سے بھی ہینڈ آؤٹ جاری کیا گیا جس موقف اپنایا گیا ہے کہ دھمیال کے علاقے میں قبرستان میں بچی کی قبر کے قریب کفن ملنے کے معاملے کےبعد پولیس نے فوری ریسپانس کرتے ہوئے قبر پر سیکیورٹی تعینات کر دی ہے ابتدائی طور پر بظاہر قبر کی بے حرمتی کے شواہد نہیں ملے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کے حوالے سے قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے، عدالت کی اجازت سے قبر کشائی کی جائے گی، لواحقین کے تحفظات کے پیش نظر حقائق کو سامنے لانے کے لئے قبر کشائی کا پراسس کیا جا رہا ہے، قبر کشائی کے بعد حالات و واقعات کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پولیس ذرائع کے مطابق عدالت نے جمعہ کی صبع دس بجے قبرکشائی کے احکامات جاری کردیے ہیں اور راولپنڈی پولیس سمیت تمام متعلقہ محکموں کو تمام متعلقہ امور و تیاری کے لیے بھی احکامات دییے گیے۔
ادھر ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر بچی کے والد ظفر اقبال نے بتایا کہ وہ رنگ ساز ہیں اور ان کے چار بچے ہیں، جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو کیسے شک گزرا کہ بچی کی قبر کھودی گئی ہے تو انھوں نے بتایا کہ مٹی ہلی ہوئی تھی اور دو پتھر بھی غائب تھے
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان بچی کی قبر کے مطابق
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔