اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کی تعمیل کیلیے نیا آن لائن سسٹم متعارف کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, August 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بینکوں کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری کی نگرانی اور زرمبادلہ کے ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا آن لائن رپورٹنگ سسٹم متعارف کروادیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے باضابطہ طور پر سرکلر جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پرفارمنس ایویلیوایشن سسٹم فار انویسٹمنٹ ابراڈ (پی ای ایس آئی اے) تیار کیا ہے جو ایک آن لائن طریقہ کار ہے۔
اس کے ذریعے مجاز ڈیلرز (اے ڈیز) اسٹیٹ بینک کے ڈیٹا اکوزیشن پورٹل (ڈی اے پی) پر بیرونِ ملک ایکویٹی سرمایہ کاری (ای آئی اے) کے لین دین کا ڈیٹا جمع کرائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق یہ نظام 10 ڈیٹا فائل اسٹرکچرز (ڈی ایف ایس) پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک کو مختلف اقسام کی ای آئی اے ٹرانزیکشنز کو ریکارڈ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، خواہ یہ لین دین بینک اپنے طور پر کریں یا اپنے کلائنٹس کی جانب سےہر اسٹرکچر میں مخصوص متغیرات اور منطق شامل ہیں جو علیحدہ رپورٹنگ ضروریات کے مطابق ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے ہدایت کی ہے کہ بینک اپنی کمپلائنس رپورٹس جمع کرائیں، جن پر ان کے گروپ ہیڈ آف کمپلائنس کے دستخط ہوں۔
اس رپورٹ میں تصدیق کرنا لازم ہوگا کہ فراہم کردہ ڈیٹا درست، مکمل، غلطیوں سے پاک اور مقررہ وقت میں جمع کرایا گیا ہے۔ پہلی رپورٹ 5 مارچ 2026 تک جمع کرانی ہوگی ہر مجاز ڈیلر کے ہیڈ آف ای آئی اے یونٹ اور گروپ ہیڈ کمپلائنس پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ ڈیٹا کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنائیں، کسی بھی قسم کی کوتاہی، نامکمل یا غلط رپورٹنگ کو خلاف ورزی تصور کیا جائے گا
سرکلر میں خبردار کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک متعلقہ فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 یا دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت مجاز ڈیلرز یا ان کے عملے کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔