پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی شدت برقرار، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح بلند
اشاعت کی تاریخ: 31st, August 2025 GMT
لاہور (ویب ڈیسک)دریائے چناب میں ہیڈ تریموں پر پانی میں اضافے کے بعد درمیانے درجے کا سیلاب آگیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔
محکمے کے مطابق دریائے چناب کے ہیڈ خانکی پر 2 لاکھ 29 ہزار اور ہیڈ قادر آباد پر 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا ہے، دونوں مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 2 لاکھ 11 ہزار 395 کیوسک ہوگیا، جہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ ہیڈ سدھنائی پر نچلے درجے جبکہ شاہدرہ پر بہاؤ کم ہوکر 90 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔
دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے، جہاں 2 لاکھ 53 ہزار 68 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا۔ ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے اور ہیڈ اسلام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے سندھ میں بھی گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب جاری ہیں۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: درجے کا سیلاب اونچے درجے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔