سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہورہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں صارفین کے پانچ سے زیادہ سمز استعمال کرنے پر موبائل فون بلاک کرنے کا انتباہ ہے، یہ نوٹی فکیشن جعلی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی صارف ایک ماہ کے دوران پانچ سے زیادہ سمز ایک ہی موبائل فون میں استعمال کرے گا تو اس کا آئی ایم ای آئی بلاک کردیا جائے گا۔

یہ افواہ ایک مبینہ پریس ریلیز کے ذریعے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی ٹی اے نے ایسا ضابطہ نافذ کیا ہے۔ اس جعلی دستاویز پر پی ٹی اے کا لوگو بھی موجود تھا اور اس میں صارفین کو وارننگ دی گئی تھی کہ پانچ سے زیادہ سمز استعمال کرنے کی صورت میں ان کے نیٹ ورک سروسز معطل کر دی جائیں گی۔

پی ٹی اے کی جانب سے وائرل جعلی نوٹیفکیشن میں درج تھا:

معزز کسٹمر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے قوانین کے مطابق ایک موبائل فون میں ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ 5 مختلف SIM استعمال کی جاسکتی ہیں، اگر 5 سے زیادہ SIM استعمال ہوئیں تو موبائل IMEI بلاک ہو سکتا ہے اور نیٹ ورک سروس بند ہوجائے گی۔

تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پی ٹی اے کی ڈائریکٹر کمیونی کیشنز زیب النساء نے واضح کیا ہے کہ ایسی کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا یہ پیغام سراسر گمراہ کن ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی اے صرف آئی ایم ای آئی ڈپلیکیشن اور کلوننگ کی نگرانی کرتا ہے اور اس حوالے سے کارروائیاں بھی کرتا ہے، جس میں مشکوک ڈیوائسز کو بلاک کرنا، ایف آئی اے کے ساتھ چھاپے مارنا اور عوامی آگاہی مہم شامل ہیں۔

اسی موقف کی تصدیق ایک نجی ٹیلی کام کمپنی جاز نے بھی کی ہے۔ کمپنی کے ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان میں ایسا کوئی تکنیکی نظام موجود ہی نہیں ہے جو ایک موبائل میں ماہانہ سمز کی تعداد کو محدود کرسکے۔

مزید یہ کہ پی ٹی اے کے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی اس خبر کو جعلی قرار دیا گیا ہے۔

’’ایک ماہ میں پانچ سے زائد سمز استعمال کرنے پر فون بلاک کرنے‘‘ والا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پانچ سے زیادہ سمز سمز استعمال کرنے سوشل میڈیا پی ٹی اے

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل