ساتھی اداکار کے نامناسب انداز سے چھونے پر اداکارہ نے انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
بھوجپوری اداکارہ انجلی راگھو نے ساتھی اداکار کی جانب سے نامناسب انداز میں چھونے پر انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کردیا۔
بھوجپوری فلم انڈسٹری کی معروف اداکار و گلوکار پَون سنگھ نے ساتھی اداکارہ انجلی راگھو کے ساتھ ایک پروموشنل تقریب کے دوران نامناسب رویہ اختیار کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گانے "سَیّاں سیوا کرے" کی تقریب کے دوران پَون سنگھ نے انجلی کی کمر پر ان کی اجازت کے بغیر نامناسب انداز میں ہاتھ رکھا اور اداکارہ سے غیرمناسب مذاق بھی کیا۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے پَون سنگھ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں بےشرم اور بدتمیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انجلی واضح طور پر اَن کمفرٹیبل محسوس کر رہی تھیں۔ بعض صارفین نے پَون سنگھ کو بھوجپوری انڈسٹری کی بدنامی کا سبب قرار دیا۔
اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اداکارہ انجلی راگھو نے ایک لائیو سیشن کے دوران افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بےحد دلبرداشتہ ہیں اور آئندہ بھوجپوری انڈسٹری میں کام نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اسٹیج پر موجود ماحول کے باعث وہ فوری ردعمل نہ دے سکیں، تاہم وہ اس رویے کو ناقابلِ برداشت سمجھتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پ ون سنگھ
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔