وسیم اکرم کا بابر اعظم کو دباؤ سے نکلنے، تنقید نظر انداز کرنے کا مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, September 2025 GMT
سابق کپتان وسیم اکرم نے فارم میں واپسی کے لیے بابر اعظم کو بڑا مشورہ دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق کپتان اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے اسٹار بیٹر بابراعظم کی حالیہ کارکردگی اور فارم پر کھل کر خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے بابر اعظم کو ہدایت کی کہ وہ دباؤ سے نکلیں، تنقید کو نظر انداز کریں اور اپنی کلاس پر بھروسہ کرتے ہوئے ٹیم کے لیے بہترین اننگز کھیلیں۔
ایک نجی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نےکہا کہ بابر اعظم ہمارے سپر اسٹار اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں بابر کو یہی مشورہ دوں گا کہ پْرسکون رہیں، غیر ضروری پریس کانفرنسز کو اہمیت نہ دیں اور یاد رکھیں کہ فارم وقتی ہوتی ہے لیکن کلاس ہمیشہ کے لیے ہے، محنت جاری رکھیں، آپ دوبارہ دنیا کے بہترین بیٹرز میں شمار ہوں گے۔
وسیم اکرم نے مزید کہا کہ اگرچہ بابر اعظم پہلے ہی عالمی معیار کے بیٹر ہیں لیکن ان کی بہترین کارکردگی ابھی آنا باقی ہے، وہ مستقبل میں پاکستان کو اہم فتوحات بھی دلوائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کے پاس میچ ونر کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں، ان میں ٹیلنٹ موجود اور تسلسل بھی ہے لیکن اب وقت آگیا کہ وہ اپنی بیٹنگ سے دو سے تین بڑے میچز جتوا کر اپنی حیثیت مزید منوائیں۔
خیال رہے کہ بابراعظم اس وقت فارم کے بحران سے گزر رہے ہیں، ان کی آخری انٹرنیشنل سنچری ایشیا کپ 2023 میں نیپال کے خلاف سامنے آئی تھی۔
اس کے بعد سے وہ تین ہندسوں تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔
سابق کپتان کو کمتر اسٹرائیک ریٹ کے باعث پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم سے بھی ڈراپ کردیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وسیم اکرم نے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔