بیجنگ : شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل کا 25 واں اجلاس چین کے شہر تھیانجن میں منعقد ہوا۔چینی صدر شی جن پھنگ نے اجلاس کی صدارت کی اور اہم خطاب کیا۔پیر کے روز چینی صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم دنیا بھر میں سب سے بڑی علاقائی تنظیم بن چکی ہے، اس کے 26 شراکت دار ممالک ہیں جن کے مابین 50 سے زائد شعبوں میں تعاون جاری ہے، اور اس کا مجموعی اقتصادی حجم 30 ٹریلین ڈالر کے قریب ہے۔ ایس سی او کے بین الاقوامی اثر و رسوخ اور مقبولیت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کھلے پن پر قائم رہنا چاہئے۔یوریشین براعظم نے قدیم تہذیبوں کو جنم دیا ہے ، مشرق اور مغرب کے انضمام کی قیادت کی ہے ، اور انسانی ترقی کو فروغ دیا ہے۔ قدیم زمانے سے تمام ممالک کے لوگوں نے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کیا ہے اور ایک دوسرے سے سیکھا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کو عوامی سطح پر تعلقات قائم کرنے چاہئیں، معاشی تعاون میں ایک دوسرے کی مکمل حمایت کرنی چاہیے اور تہذیبوں کے باغات کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جو خود کفیل، خوبصورت اور ہم آہنگ ہوں۔
شی جن پھنگ نے اپنی تقریر میں باہمی احترام اور مشترکہ مقصد کی تلاش پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیالات و نظریات کی ہم آہنگی ایک فائدہ مند قوت ہے، جبکہ باہمی احترام اور مشترکہ مقصد کا حصول کھلے ذہن اور حکمت کی نشانی ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے سب رکن ممالک دوست اور ساتھی ہیں۔ ہمیں اختلافات کا احترام کرتے ہوئے اسٹریٹجک روابط کو برقرار رکھنا چاہیے، اجتماعی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے، یکجہتی اور تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے، تعاون کے کیک کو بڑا بنانا چاہیے، تمام ممالک کے وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور خطے میں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے سرحدی علاقوں میں عسکری حوالوں سے اعتماد پر مبنی میکانزم قائم کرنے میں پہل کی اور طویل سرحد کو دوستی، باہمی اعتماد اور تعاون کے بیلٹ میں تبدیل کیا۔ہم نے مشترکہ طور پر “بیلٹ اینڈ روڈ” کی تعمیر میں تعاون کا آغاز کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا اور علاقائی ترقی اور خوشحالی کے لئےایک تحریک فراہم کی۔ہم نے اچھی ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے ایک طویل مدتی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ہم نے جامع مشاورت، مشترکہ تعمیر اور اشتراک پر مبنی عالمی حکمرانی کے تصور کو پیش کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا اور حقیقی کثیر الجہتی پر عمل کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدل و انصاف کی پاسداری کی جانی چاہئے۔ دوسری جنگ عظیم کی تاریخ کے بارے میں ایک درست نقطہ نظر کو فروغ دینا چاہئے اور سرد جنگ کی ذہنیت، کیمپ تصادم اور غنڈہ گردی کی مخالفت کرنی چاہئے۔ اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھیں اور عالمی تجارتی تنظیم کی مرکزیت پرکثیر الجہتی تجارتی نظام کی حمایت کریں۔ ایک مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا اور جامع اقتصادی عالمگیریت کی وکالت کریں، اور زیادہ منصفانہ اور معقول عالمی حکمرانی کے نظام کی تعمیر کو فروغ دیں۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ عملیت پسندی اور اعلیٰ کارکردگی پر عمل کرنا ضروری ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی تنظیمی اصلاحات کو فروغ دینا، وسائل کے استعمال اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانا، اور تنظیمی میکانزم کو زیادہ کامل، فیصلہ سازی کو زیادہ معقول اور اقدامات کو زیادہ موثر بنانا جاری رکھیں.

سیکیورٹی خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع مرکز اور اینٹی نارکوٹکس سینٹر ، اور شنگھائی تعاون تنظیم کا ترقیاتی بینک جلد از جلد قائم کیا جائے گا۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین ضرورت مند رکن ممالک میں عوامی زندگی سے متعلق 100 “چھوٹے لیکن خوبصورت” منصوبوں کو نافذ کرے گا،رواں سال رکن ممالک کو 2 ارب یوآن کی مفت امداد فراہم کرے گا، انٹر بینک کنسورشیم کے رکن بینکوں کو آئندہ تین سال میں 10 ارب یوآن کے قرضے جاری کرے گا ۔ اگلے سال سے ایس سی او کے لئے خصوصی اسکالرشپس کی تعداد کو موجودہ بنیادوں پر دوگنا کیا جائے گا اور ایس سی او ڈاکٹریٹ اسٹوڈنٹ انوویشن ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا جائے گا ۔ اگلے پانچ سالوں میں رکن ممالک میں 10 “لوبان ورکشاپس” تعمیر کی جائیں گی ، جو افرادی تربیت کے 10،000 مواقع فراہم کریں گی۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شنگھائی تعاون تنظیم صدر شی جن پھنگ نے رکن ممالک نے کہا کہ انہوں نے کو فروغ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟