WE News:
2026-07-24@11:14:01 GMT

اے پیاری مہمان، سرحد پر باڑ لگ گئی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT

مشر سے پوچھا تمہیں جوا کھیلنا آتا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ فلیش آتا ہے؟ بولا نہیں۔ ’تہ پہ فلیش سہ کے‘ یعنی تم نے فلیش کا کیا کرنا ہے۔ مشر انسان بن، مہمان آئے ہیں، ان میں ایک لڑکی ہے۔ یار کہتی ہے شام کو فلاش کھیلیں گے۔ مشر ایک 2 فیملیز ہمارے گھر مہمان آئی ہیں۔ یہ لڑکی پتا نہیں کیوں ایسی ہے۔ ’تا تہ قسم وئی‘ یعنی کھا قسم تو مشر میں کیوں جھوٹ بولوں گا۔ آؤ تاش خریدیں۔

کارخانو مارکیٹ سے تاش خریدنے گئے۔ وہاں مشر کی اعلی اخلاقیات کا اندازہ کر کے دکاندار نے وہ والی تاش پکڑا دی جس پر تصویریں ہوتی ہیں۔ مشر نے کچھ ٹوں ٹوں کر کے تاش واپس کر کے انسانوں والی تاش خریدی۔ ہم واپس مڑے تو مشر بولا یہ لے اب جا کر کھیلنا۔ مشر تمہیں عقل کب آئے گی تاش تو ہے فلاش کھیلنی نہیں آتی۔
یارا اسی لڑکی سے پوچھ لینا کہ تم لوگ کس رولز پر کھیلتے ہو۔ سن جیتنے کی ضرورت نہیں ہے ہارتے رہو بیٹھے رہو۔ جیت گئے تو جلدی بھگا دیں گے۔ ویسے ہے کیسی، اتنی ہی خوبصورت جتنی بتائی؟ یار مشر اس کی آنکھیں نیلی یا سبز ہیں پتا نہیں دیکھا ہی نہیں جاتا اس کی طرف۔ نہ مڑا بس فوری جا گھر۔ مشر اپنی طرف سے ایک لو اسٹوری سوچ رہا تھا، شاید چچا بننے کی تیاری کر رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: انڈیا کا بیلنس آؤٹ اور پاکستان کا پرفیکٹ فٹ ہوگیا

شام کو ہم لوگ کھیلنے بیٹھے تو پتہ لگا کہ فلیش نہیں بلف کھیلنی ہے۔ قواعد بتائے گئے ہارنے پر ایک روپیہ بھی ہارنا ہوتا تھا۔ قدرت بھی مذاق کے موڈ میں تھی کھیلنے والے ہم دو ہی رہ گئے۔ ہار ہار کر میرا برا حال ہو گیا۔ وہ کچھ پوچھتی میں بتاتا، ٹھیک بھی ہوتا تو وہ کوئی دھاندلی کر کے ایک روپیہ جیت جاتی۔ ہارنے کی وجہ وہی نیلی سبز آنکھیں تھیں۔ پشتو میں کہتے ہیں کہ ’سترگو کے پیریان دی‘ آپ ساحرانہ آنکھیں سمجھ لیں۔

70،80 روپے میں ہار چکا تھا۔ اس ظالم نے جب پوچھا تم کبھی واہگہ بارڈر گئے ہو۔ وہ جب کچھ پوچھتی میں تو اسے دیکھتا، سوال سن کر گڑبڑا جاتا، اندازہ غلط لگاتا اور ایک روپیہ ہار جاتا۔ اس کی بات سنی تو اس سے پوچھا تم نے طورخم بارڈر کے پار جانا ہے؟ آپ لے جاسکتے ہیں؟ کیوں نہیں جب کہو۔ اس آفر پر وہ اتنا گڑبڑائی کے جو ساٹھ 70 روپے جیتے تھے ہار گئی۔ اس نے پوچھا صبح چلیں؟ ضرور چلیں بس اپنے بڑوں سے اجازت خود لیں۔ مل گئی سمجھیں، یاہو۔

مشر کو کیا بتایا وہ کیسے راضی ہوا۔ اس ٹور کا انتظام کیسے ہوا، ڈبل کیبن پک اپ کیسے آئی، اس سارے ٹور کے لیے سرمایہ کیسے آیا، یہ ایک الگ کہانی ہے۔ ہم یہ سب کچھ کر کے لنڈی کوتل کی جانب سویرے سویرے رواں دواں تھے۔ مشر نے مہمانوں کے لیے بہت دماغ لڑا کر انتظامات کیے تھے۔ اس نے ایک بہت بڑا گرما بھی خرید لیا تھا۔ اس گرمے کو وہ گود میں رکھ کر بیٹھا ہوتا تھا جہاں کہیں ہم فوٹو بنانے یا جگہ دیکھنے اترتے وہ اپنا گرما کندھے پر رکھ کر ساتھ اتر جاتا۔
مشر کا گرما اٹھا اٹھا کر رنگ لال ہوا ہوا تھا۔ جب اس ظالم مہمان نے بولا کہ لائیں اس گرمے کو کاٹ ہی لیتے ہیں۔ ہم دونوں سائڈ پر کھڑے ہو گئے مہمانوں نے گرما کاٹ کر کھاتے ہوئے خوب مستی کی۔ وہ ڈبل کیبن میں پیچھے بیٹھ گئے انہوں نے گرما کھایا، گانے گائے نعرے لگائے۔

مزید پڑھیے: بی ایل اے پر نئی امریکی پابندیاں، پاکستان کے لیے ایک نادر موقع

3،4 لڑکیوں کو اس طرح جمرود روڈ پر خوش خرم دیکھ کر ایک حاجی صاحب نے بھی اپنی گاڑی روکی۔ لڑکیوں کو قریب سے دیکھنے کی نیت سے پاس آئے۔ ’اے ہے پنجابیانو‘ بولا اور سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھ کر توبہ استغفار کی۔ جب وہ روانہ ہونے کو تھے تو مشر آگے بڑھا اور بولا ’اے بابا اے بابا ستہ خدائے۔۔۔‘ حاجی صاحب جو پہلے یہ سمجھ رہے تھے کہ پنجابیوں نے ایجنسی فتح کر کے ماڈرن کر دی ہے۔ اب آفریدی پشتو سن کر جو کہا وہ بس اتنا ہی تھا کہ ’اے ہے آفریدو‘ کہ ہائے ہائے آفریدیو۔

ہم لوگ طور خم پہنچے پاک افغان سرحد کا دورہ کیا۔ اس کے بعد مشر نے سائیڈ راستوں سے سب کو وہاں پہنچا دیا جہاں سے اونٹوں پر تجارتی سامان واپس پاکستان آیا کرتا تھا۔ اس راستے سے ہم افغانستان داخل ہو گئے۔ اپنے مہمانوں کو بتایا کہ اب آپ افغانستان میں ہیں۔ ان کے رنگ اڑ گئے وہ بھاگ کر 6 گز دور پاکستان میں داخل ہو گئے۔ پاکستانی اور افغانی خاصہ دار (سپاہی) اور آنے جانے والے ان کی اس پھرتی پر ہنسنے لگے۔ ہمیں وہیں کھڑے دیکھ کر ان حسینوں نے دوبارہ ہمت کی اور پھر افغانستان پہنچ گئے۔

وہاں بیٹھ کر پھر ہم نے ’تریخ چائے‘ پی۔ تریخ چائے، کالی چائے کا قہوہ ہوتا بغیر چینی کے۔ واپسی پر ان حسین مہمانوں نے ہم سے سرحدی لائین کی نشاندہی کرائی۔ اس کے بعد تھوڑی دیر کود کود کر پاکستان افغانستان کھیلا۔ جمپ لگا کر کبھی ادھر کبھی ادھر۔ واپسی کے راستے میں ہم نے رک کر نشانہ بازی کی ہلکی پھلکی مشق بھی کی۔ اس دورے کے بعد جب کبھی اس جگہ جانا ہوا میں نے اور مشر نے لوگوں کی نظر بچا کر، لائین پر کھڑے ہو کر، کود کود کر افغانستان پاکستان ضرور گایا۔

مزید پڑھیں: مودی کی 56 انچ کی چھلنی چھاتی اور جھکی جھکی نگاہیں

مشر کا فون آیا تھا اس نے نیلی آنکھوں والی کا پوچھا۔ اسے کہا کہ پتا نہیں کدھر ہے جدھر بھی ہے مزے سے ہو گی۔ مشر بولا یار اب ہم اس طرح بارڈر پر نہیں جا سکیں گے، وہاں باڑ لگ گئی ہے۔ نہ ویسے کود کود کر پاکستان افغانستان گا سکیں گے۔ نہ کسی مہمان کو ایسے سیر کرانے لے جا سکیں گے۔

مشر کا گھر تو ہے ہی طورخم بارڈر کے پاس۔ اس کا دکھ تو سمجھ آتا ہے پر دکھی تو میں بھی ہوں۔ دکھی تو ہماری مہمان بھی ہو گی۔ ہم تینوں کو افغانوں کا دکھ بھی سمجھ آتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی لکھی اس پرانی تحریر کے ساتھ افغانوں کی واپسی کو باعزت بنانے، لوگوں کے جذبات کا خیال رکھنے کی درخواست ان سب سے ہے جو ان انتظامات میں شامل ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

افغانستان تاش فلیش مشر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان تاش فلیش ا تا ہے

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف