رواں مالی سال میں شرح نمو 4.25 فیصد تک جانے کا امکان، گورنر اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے اور مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی سالانہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی بینک کے گورنر نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کی تفصیلی رپورٹ پیش کی، جبکہ کونسل کی قیادت اور اراکین نے برآمدی مسابقت کو بڑھانے کے لیے فوری پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ 2022 کے بعد پاکستان نے غیر معمولی معاشی چیلنجز پر قابو پایا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر جو 2023 کے آغاز میں صرف 2.
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا ہدف عبور، اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 5 ارب ڈالر کا تاریخی اضافہ
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق جاری کھاتہ خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے، جبکہ ترسیلات زر 2025 میں بڑھ کر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں جو بڑی حد تک غیر رسمی ذرائع سے رسمی چینلز کی طرف منتقل ہوئی ہیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ افراطِ زر جون 2025 میں کم ہو کر 3.2 فیصد کی تاریخی سطح تک آ گیا ہے، جس کی بدولت اسٹیٹ بینک نے گزشتہ ایک سال میں شرحِ سود کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دیا، مالیاتی نظم و ضبط، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونی قرضوں کے مستحکم سطح پر رہنے نے منڈیوں کو اعتماد فراہم کیا ہے۔
’پاکستان کی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے اور مالی سال 2026 میں شرح نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہے گی، ہمارا عزم ہے کہ استحکام کو برقرار رکھا جائے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے جائیں اور افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف میں رکھا جائے۔‘
مزید پڑھیں: ڈیجیٹل معیشت کی جانب اہم قدم، کاروباری لائسنس کے لیے کیو آر کوڈ لازم
دوسری جانب پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے گورنر کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمد کنندگان کو درپیش بنیادی مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ہوگا اگرچہ معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے لیکن پاکستان میں کاروبار کی لاگت اب بھی غیر مسابقتی ہے۔
’برآمدی سہولت اسکیم سے ضروری خام مال کے اخراج نے برآمد کنندگان پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے، ایسے وقت میں جب عالمی منڈیوں میں پاکستان کے لیے مارکیٹ شیئر حاصل کرنے کا نادر موقع موجود ہے۔‘
فواد انور نے زور دیا کہ برآمدی سہولت اسکیم سے نکالے گئے خام مال پر عائد درآمدی ڈیوٹیز واپس لی جائیں، سیلز ٹیکس 3 سے 5 فیصد تک محدود اور قابل واپسی بنایا جائے۔ مزید یہ کہ سب کے لیے یکساں 1 فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیم، اور اجرت و توانائی کے بڑھتے اخراجات کے لیے سبسڈی والے فائنانسنگ پروگرام فراہم کیے جائیں۔
مزید پڑھیں: گزشتہ مالی سال میں اسٹیٹ بینک کا خالص منافع کتنا رہا؟ رپورٹ جاری
’ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہی وقت ہے کہ حکومت جراتمندانہ پالیسی معاونت فراہم کرے تاکہ ہماری صنعت عالمی منڈی میں طویل المدتی مارکیٹ شیئر حاصل کر سکے، بجائے اس کے کہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے۔‘
اجلاس کے اختتام پر اتفاق کیا گیا کہ برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر، پاکستان کی معاشی بحالی کی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے، پی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک نے پالیسی مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا، خصوصاً قابل تجدید توانائی اور کم شرح سود والے برآمدی قرضوں کے حوالے سے، تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان عالمی مارکیٹ میں مسابقتی رہ سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کی اسٹیٹ بینک مالی سال ارب ڈالر کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔