راولپنڈی:میٹرک کی طالبہ کو شادی کا جھانسہ دیکر متعدد بارجنسی زیادتی کا نشانہ بنانےوالا پرنسپل گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کے علاقے میں شادی کا جھانسہ دیکر اور امتحان کی تیاری کرانے کے بہانے بلا کر میٹرک کی طالبہ کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اکیڈمی پرنسپل کو گرفتار کرلیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق طالبہ حاملہ ہوئی تو ملزم نے نجی کلینک لے جا کر چیک اپ کرایا اور ادویات دیتا رہا جس سے حمل ضائع ہوگیا، پولیس نے اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان کے خلاف زیادتی و اسقاط حمل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق سال 2023 میں اسد اکیڈمی خیابان سر سید میں میڑک کلاس میں داخلہ لیا، مئی 2025 میں اکیڈمی کے پرنسپل ضیا الرحمان نے کہا کہ میری اولاد نہیں، مجھ سے شادی کرلو، پرنسپل کو منع کردیا اور کہا کہ ایسا کوئی رشتہ قائم کرنا ہے تو میرے والدین سے بات کرلیں۔
مقدمے میں طالبہ نے کہا کہ ’لیکن حیلے بہانوں سے میرے قریب ہونا شروع کردیا، ٹیوشن پڑھانے اور اچھے نمبروں کا لالچ دینے لگا، طالبہ ہونے کے ناطے اپنے خاندان کی بدنامی کی ڈر سے خاموش رہی۔
طالبہ نے کہا کہ ’21 مئی کو پیپر کی تیاری کے لیے اکیڈمی بلوایا، وہاں گئی تو تمام اسٹوڈنٹس چھٹی کرکے جاچکے تھے، پرنسپل اکیڈمی میں بیٹھا تھا، تمام دروازے بند کرکے مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور کسی کو بتانے کی صورت میں دھمکیاں دیں۔
متاثرہ طالبہ نے مقدمے میں مزید کہا کہ ’پرنسپل کہتا رہا کہ میں جلد تم سے شادی کرلوں گا، میری طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی تو صدر کے ایک نجی کلینک میں لے جاکر علاج کرایا، ایک ماہ بعد مجھے پتہ چلا کہ میں حاملہ ہوچکی ہوں، جس پر میں نے ضیا الرحمان کو بتایا تو اس نے کوئی دوائی لاکر دی۔
مقدمے کے متن کے مطابق طالبہ نے کہا کہ ’مجھے معلوم نہ تھا لیکن استعمال کرنے پر میری طبعیت خراب ہوگئی، بعد میں پتا چلا کہ دوائی اسقاط حمل کی تھی، میرا حمل ضائع ہوگیا، ضیا الرحمان کو پتا چلا تو اس نے کہا اب تم کسی سے شادی کے قابل نہیں، میں ہی تم سے شادی کروں گا لیکن کچھ وقت درکار ہے۔
متن مقدمہ میں مزید کہا گیا کہ ’جولائی میں پرنسپل ضیا الرحمان نے اکیڈمی کے دفتر کے اندر ہی مجھ سے زبردستی زیادتی کی اور دھمکیاں دیں کہ کسی کو بتایا تو شادی نہیں کروں گا، اس کے بعد بھی مختلف اوقات میں وہ بلیک میل کرکے زیادتی کرتا رہا جس سے دوبارہ حاملہ ہوگئی۔
متن کے مطابق لڑکی نے کہا کہ ’ضیا الرحمان سے شادی کے ضد کی تو وہ ذہنی و جسمانی ٹارچر کرنے لگا، خاندان کی عزت کی وجہ سے سخت پریشان رہنے لگی جس سے حمل از خود ضائع ہوگیا۔
متاثرہ طالبہ نے کہا کہ ’اکیڈمی پرنسپل ضیا الرحمان نے درس و تدریس کے مقدس پیشے کی آڑ میں شادی کا جھانسہ دیکر زبردستی زیادتی کرکے حاملہ کرنے اور پھر حمل ضائع کرکے سخت زیادتی کی اور میری زندگی برباد کردیا، مزکورہ کے خلاف مقدمہ درج کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پرنسپل ضیا الرحمان طالبہ نے کہا کہ کے مطابق
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایرانی جزیرے قشم پر امریکی فوج کی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے ’اپنے دفاع‘ کے تحت حملہ کیا، جبکہ ایران نے جواباً کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعووں کے باوجود واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔
امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں واقع ایران کے قشم جزیرے پر ’ اپنے دفاع‘ کے تحت حملے کیے، جبکہ ایران کی جانب سے کویت اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے کویت میں تعینات امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز کی ایک نئی لہر بھیجی گئی، تاہم یہ حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار سینٹکام کے مطابق امریکی فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز کو مار گرایا اور اس کارروائی میں کسی امریکی اہلکار یا فوجی اثاثے کو نقصان نہیں پہنچا۔
تازہ حملوں کی یہ اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب ایران کے پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا کہ قشم جزیرے پر رات گئے امریکی حملے کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام نے بدھ کی صبح جاری بیان میں کہا تھا کہ اس نے قشم جزیرے پر واقع ایک ایرانی زمینی کنٹرول اسٹیشن پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
دوسری جانب امریکی فوج نے پاسدارانِ انقلاب کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے میں واقع ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینٹکام نے کہا کہ پاسدارانِ انقلاب کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ’امریکی افواج کے خلاف ایران کے تمام حملے ناکام رہے۔ امریکی فوج ہر وقت چوکس ہے اور کسی بھی بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔‘
ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کے انجن روم کو نقصان پہنچا۔
ایرانی فورس کے مطابق اس کے جواب میں ایک امریکی اسرائیلی جہاز پر بحری میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد امریکی افواج نے قشم جزیرے کے جنوب میں واقع پاسدارانِ انقلاب کے ایک مواصلاتی ٹاور کو نشانہ بنایا۔
پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ایک امریکی فضائی اڈے، امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور خطے کے ایک ملک میں موجود امریکی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے قشم جزیرے پر دفاعی نوعیت کی کارروائی کی اور ساتھ ہی متعدد ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کیا۔
سینٹکام کے مطابق ایران نے خطے کے پڑوسی ممالک کی جانب کئی بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی بھی اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔
امریکی بیان میں کہا گیا کہ کویت کی جانب فائر کیے گئے دو ایرانی میزائل راستے ہی میں گر گئے یا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، جبکہ بحرین کی طرف داغے گئے تین میزائلوں کو امریکی اور بحرینی فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر تباہ کر دیا۔
واضح رہے کہ بحرین اور کویت میں حالیہ دنوں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں