مودی کے ساتھی مکیش امبانی امریکی پابندیوں کے برخلاف روسی تیل سے اربوں کما لیے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
بھارت دنیا کے سامنے خود کو ’ذمہ دار عالمی طاقت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی پالیسیوں کا اصل مقصد سرمایہ دار دوستوں کو نوازنا اور منافع خوری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:روسی تیل اور بھارتی ریفائننگ، پیسے کس نے کھرے کیے؟
روس پر عائد عالمی پابندیوں کے باوجود مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز بھارتی حکومت کی آشیر باد سے سب سے بڑی فائدہ مند کمپنی بن کر سامنے آئی ہے۔
روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار
وزیراعظم مودی کے قریبی دوست مکیش امبانی روسی تیل کے سب سے بڑے خریدار اور بیوپاری ثابت ہوئے ہیں۔
ریلائنس انڈسٹریز نے اربوں ڈالر کے سودے کر کے امریکی پابندیوں کو نظر انداز کیا، جس پر عالمی سطح پر بھارت کو سخت تنقید اور واشنگٹن کی ناراضی کا سامنا ہے۔
پرائیویٹ اداروں کا اجارہ
جہازوں کی ٹریکنگ رپورٹوں کے مطابق بھارت کی یومیہ 1.
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی بھارت کو پھر تنبیہ، روسی تیل کی درآمدات پر ’سنجیدگی‘ دکھانے کا مطالبہ
یہ سودے عوامی ضرورت یا ریلیف کے بجائے ارب پتی طبقے کی تجوریاں بھرنے کے لیے کیے گئے۔
خطرناک انحصار اور برآمدات
جون 2025 میں بھارت میں استعمال ہونے والے ہر دوسرے بیرل کا ماخذ روس تھا، یعنی روسی تیل کا حصہ 45 فیصد تک پہنچ گیا۔
ریلائنس اور نایارا نے مل کر بھارت کی 81 فیصد ایندھن برآمدات اپنے کنٹرول میں لے لی ہیں۔
صرف ریلائنس نے یومیہ 9 لاکھ 14 ہزار بیرل برآمد کر کے بھارت کی کل برآمدات کا 71 فیصد سنبھال رکھا ہے، جبکہ جام نگر ریفائنری اپنی پیداوار کا 67 فیصد بیرون ملک بھیجتی ہے تاکہ یورپ و ایشیا میں مہنگے داموں فروخت کیا جا سکے۔
عوام کو ریلیف نہیں، سرمایہ داروں کو منافع
جب مغرب نے روس پر پابندیاں لگائیں تو بھارتی پرائیویٹ ریفائنرز نے موقع سے فائدہ اٹھا کر اربوں ڈالر کمائے۔ سستا روسی خام تیل خرید کر یورپ اور ایشیا میں مہنگا ایندھن بیچا گیا، لیکن بھارتی عوام کو کوئی فائدہ نہ ملا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ٹیرف کے باوجود انڈیا روس سے تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا، رپورٹ
اس سے صرف امبانی کی دولت میں اضافہ ہوا جبکہ عوام غربت اور مہنگائی کے بوجھ تلے دب گئے۔
حکومتی آشیر باد
یہ سب کچھ بھارتی حکومت کی آشیر باد کے بغیر ممکن نہیں۔ مودی حکومت نے عوامی ریفائنریز کو نظر انداز کر کے امبانی اور نایارا کو کھربوں کمانے کا موقع دیا۔
امب
نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت بدنام ہوا اور روس پر اس کا انحصار خطرناک حد تک بڑھ گیا۔
غیرجانبداری کا دعویٰ بے نقاب
بھارت کا یوکرین جنگ پر ’غیر جانبداری‘ کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ نئی دہلی نے پابندیوں کے خلا کو دانستہ استعمال کر کے چند سرمایہ دار دوستوں کو نوازا۔
ریلائنس انڈسٹریز وزیراعظم مودی کی پشت پناہی میں بھارت کے دوہرے کھیل اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی سب سے بڑی مثال ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امبانی امریکا بھارت ٹرمپ روسی تیل مودی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت روسی تیل ریلائنس انڈسٹریز مکیش امبانی روسی تیل
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے