منشیات کے ملزم نے سی ٹی ڈی کے ڈر سے سپریم کورٹ میں گرفتاری دے دی WhatsAppFacebookTwitter 0 3 September, 2025 سب نیوز


اسلام آباد:منشیات کیس میں ملزم فیاض نے کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مبینہ پولیس مقابلے کے ڈر سے سپریم کورٹ میں اینٹی نارکوٹیکس فورس (اے این ایف) کو گرفتاری دے دی ہے۔

سپریم کورٹ میں منشیات اسمگلنگ کیس کی سماعت کے دوران ڈرامائی صورتِ حال پیدا ہوگئی جب ملزم فیاض نے ضمانت مسترد ہونے کے بعد انکاؤنٹر کے خدشے کے باعث کمرہ عدالت میں ہی اے این ایف کو گرفتاری دے دی۔

دوران سماعت ملزم کے وکیل ملزم مظہر اقبال سدھو نے مؤقف اپنایا کہ ملزم ضمانت مسترد ہونے کے بعد خود گرفتاری دینا چاہتا ہے، خطرہ ہے ملزم کا انکاؤنٹر کردیا جائے گا۔

وکیل نے کہا کہ پنجاب میں سی سی ڈی کو لوگوں کے انکاؤنٹر کا لائسنس ملا ہوا ہے، پنجاب میں روانہ لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔

پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ اے این ایف ایک آزادانہ فورس ہے۔ جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ ایک بندے کو جیل سے منگوا کر اس کا انکاؤنٹر کردیا گیا، ملزم کی گرفتاری سپریم کورٹ ریکارڈ میں حکمنامہ میں شامل کردی جائے، پراسکیوشن کی ساری کہانی جھوٹی ہے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ملزم کے پاس سے 10 کلو منشیات اور ڈرون بھی برآمد ہوا ہے۔

ملزم نے درخواست ضمانت مسترد کرنے کی آبزرویشن کے بعد درخواست واپس لے لی، سپریم کورٹ نے ملزم کی گرفتاری کو کورٹ آرڈر میں شامل کردیا۔

سپریم کورٹ نے منشیات اسمگلنگ کے ملزم فیاض عرف بھولا کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کی تھی، ملزم پر 10 کلو منشیات اسمگلنگ کا الزام ہے۔

ملزم مظہر اقبال کے خلاف اگست 2023 میں منشیات اسمگلنگ کا لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے ڈکیتی کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی
دوسری جانب سپریم کورٹ نے ڈکیتی کے ملزم شہباب الدین کی ضمانت کی درخواست خارج کردی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر 2 لاکھ ریال کی ڈکیتی کا الزام ہے جب کہ 2 گواہوں نے عدالت میں شناخت سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم سے 80 ہزار ریال برآمد ہوئے ہیں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ 2 لاکھ ریال کی ڈکیتی ہوئی اور ملزم سے 80 ہزار ریال ریکور ہو گئے، یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ ڈکیتی کا شکار شخص تو ڈکیتوں کے سامنے سر نہیں اٹھا سکتا، ایسے وقت میں انسان کو اپنی جان کی فکر ہوتی ہے۔

جسٹس شہزاد ملک نے ریمارکس دیے کہ مدعی کی ملزم کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی، اگر دشمنی ہوتی تو وہ ایف آئی آر میں براہِ راست نامزد کرتا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم شہباب الدین کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک میں “تسلسل” کا فیصلہ ہوگیا،5 یا 10 برس کا تعین آئین کے مطابق ہوگا، راناثنااللہ ملک میں “تسلسل” کا فیصلہ ہوگیا،5 یا 10 برس کا تعین آئین کے مطابق ہوگا، راناثنااللہ ’پیوٹن اورکم جونگ کو میری نیک خواہشات پہنچائیں‘، ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام کوئٹہ:سریاب روڈ پر دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی، واقعے کا مقدمہ درج اسرائیلی ریزرو فوجیوں نے غزہ پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیکر ڈیوٹی پر آنے سے انکار کر دیا فل کورٹ اجلاس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 ججوں کے خطوط سامنے آگئے، اہم سوال اٹھا دیے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی؛ 100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: منشیات اسمگلنگ سپریم کورٹ میں گرفتاری دے دی سپریم کورٹ نے کے ملزم ملزم کے کے بعد

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس