اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ بات اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے قائم مقام ڈپٹی گورنر، ڈاکٹر عنایت حسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی، جس کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقد ہوا،اس دوران،سینیٹ کمیٹی نے ورچوئل اثاثہ جات بل 2025 پر غور کیا ہے اور اس کی منظوری کے لیے اگلے اجلاس میں اس کا جائزہ لینا جاری رکھے گی،اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی قرار دے کر اس پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ورچوئل ایسٹ بل2025کے ذریعے ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کرپٹو اثاثہ جات کی خریدو فروخت کو عالمی معیارات کے مطابق ریگولیٹ کیا جائے گا، اتھارٹی کے قیام سے انسداد منی لانڈرنگ اور دیگر غیر قانونی مالی سرگرمیوں کور وکنے میں مدد ملے گی۔سینیٹ کمیٹی نے ایس ای سی پی کے چیئرمین، کمشنرز اور دیگر کے بھاری تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا ایس ای سی پی کے بورڈ نے تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ متفقہ طور پر کیا یا بورڈ کے ارکان میں کوئی اختلاف رائے تھا۔ سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تنخواہیں اور الاؤنسز، بشمول میڈیکل اور تفریحی الاؤنسز، لاکھوں روپے کے کُل مالی اثرات کے ساتھ منظور کیے گئے تھے۔ورچوئل اثاثہ جات بل 2025 پر بحث کے دوران، ایس بی پی نے آگاہ کیا کہ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک نافذ ہونے کے بعد ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی قرار دے کر اس پر پابندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا جائے گا۔سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ میں ورچوئل ایسٹ بل 2025سے متعلق سٹیٹ بنک کے ڈپٹی گورنر نے بتایاکہ اسٹیٹ بنک قانون سازی کے بعد ڈیجیٹل کرنسی جاری کرے گا اور کرپٹو کرنسی کے قانونی لین دین کی اجازت ہوگی، قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کو سیکریٹری قانون نے بریفنگ میں بتایاکہ ورچوئل اثاثہ جات کے لیے سروس پروائڈر کو لائسنس جاری کیے جائیں گے اور ورچوئل کرنسی ایکسچینج قائم کی جائے گی جس کےذریعے ڈیجیٹل کرنسی کی خریدوفروخت ہوگی ،ڈیجیٹل کرنسی کے ڈیجیٹل اکاؤنٹس ہونگے اور عام کرنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں منتقل کیا جاسکے گااور یہ منتقلی کرنسی ایکسچینج کے ذریعے ہوگی ، ورچوئل کرنسی کی قانون سازی کے بعد اسٹیٹ بنک آف پاکستان ریگولیٹری فریم ورک تیار کرے گا، ارکان کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ڈیجیٹل کرنسی کے آنے کے بعد کمرشل بنک بند ہو جائیں گے ، کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجودہ کرپٹو کونسل ایڈوائزری کے طور پر کام کررہی ہے ، قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی کو کابینہ ڈویژن کے بجائے خزانہ ڈویژن کے ماتحت کیا جائے، کمیٹی نے بل میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے ڈیجیٹل فنانس اینڈ ٹیکنالوجی اتھارٹی کےلیے عمر کی حد 55سال رکھی جائے اور کم از کم پانچ سال کا تجربہ ہو، بعدازاں بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک کےلیے موخر کر دیاگیا ، کمیٹی میں ایس ای سی پی کے چیئرمین اور عہدیداران کی خود ساختہ تنخواہوںا ور مراعات میں اضافے کے معاملے وفاقی سیکریٹری خزانہ سے وضاحت طلب کر لی ، سینٹر انوشہ رحمن نے کہا کہ ایس ای سی پی کی از خود تنخواہیں بڑھانا رولز کی خلاف ورزی ہے ، خزانہ ڈویژن کی منظوری کے بغیر تنخواہیں نہیں بڑھائی جاسکتی ، ایس ای سی پی بورڈ نے اگر اس کی منظوری دی تو سیکریٹری خزانہ بورڈ کے ممبر ہیں انہوں نے اعتراض کیوں نہیں کیا ، سیکریٹری قانون نے کمیٹی کو بتایا کہ بورڈ اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی تھی ، سینٹر محسن عزیز نے کہا کہ کیاکسی بورڈ کے ممبر نے فیصلے میں اختلافی نوٹ میں بھی لکھا گیا ، ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید نے کمیٹی کو بتایا کہ 2019کے بعد سے اب تنخواہیں بڑھائی گئی ، اکٹھی تنخواہیں بڑھانے کے باعث یہ زیادہ محسوس ہورہی ہیں،سینٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قانون کے تحت پالیسی بورڈ کو تنخواہیں بڑھانے کی منظوری دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ورچوئل اثاثہ جات کرنسی کو قانونی ایس ای سی پی کے کمیٹی کو بتایا ڈیجیٹل کرنسی قائمہ کمیٹی اسٹیٹ بینک کی منظوری کمیٹی نے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی