کراچی:

سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ ابھی تک معمول پر ہے اور صورتحال بھی واضح نہیں لیکن سپر فلڈ کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔

سندھ رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سیلاب کے پانی کو روکنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کہیں کٹ لگانے کی ضرورت ہے، محکمہ موسمیات کی پیش گوئیاں ٹھیک نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ فلڈ مانیٹرنگ سیل وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا جو 24 گھنٹے کام کر رہا ہے، محکمہ صحت، ماحولیات اور 1122 کے نمائندے یہاں موجود ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے 24 گھنٹوں میں 28 ہزار سے زائد لوگوں کو کچے کے علاقوں سے نکالا، ان کی کل تعداد 94 ہزار ہوگئی ہے۔ تقریباً 24 لاکھ لائیو اسٹاک سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تین لاکھ لائیو اسٹاک کو علاقوں سے نکالا گیا ہے اور 6 لاکھ جانوروں کو ویکسنیشن بھی دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین اور صدر کی خصوصی ہدایت پر کارکنان کام کر رہے ہیں، بلاول بھٹو آج سے پنجاب میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے، زیادہ سے زیادہ انسانی جانوں اور لائیو اسٹاک کو بچانا ہے، ریلیف کیمپ قائم ہیں وہاں تمام تر سہولیات بھی موجود ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ بھارت آبی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے اور بھارت کی نیت پاکستان کے لیے کبھی بھی اچھی نہیں رہی، ڈیمز کو بہت سوچ سمجھ کے بنانا ہوتا ہے اور اس وقت لانگ ٹرم پلاننگ کی ضرورت ہے، آبی ماہرین کے ساتھ مل کر مستقبل کے فیصلے کرنا ہوں گے۔

سینیئر وزیر کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے کبھی دریا دیکھا نہیں اور کسی کو ایک بورا راشن نہیں دیا وہ بڑی بڑی باتیں کر رہے، ہمارے تمام انتظامات سب کے سامنے ہیں کوئی بھی جا کر دیکھ سکتا ہے۔

قبل ازیں، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو صوبائی رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل میں سیکریٹری ماحولیات زبیر چنہ نے بریفنگ دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا کہ ہے اور

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن