جاپان میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 18 سالہ نوجوان نے اپنے چچا کے خراٹوں سے تنگ آکر ایسا قدم اٹھایا جو سب کو چونکا گیا۔ نوجوان نے مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت چچا کے کھانے میں زہریلا مواد ملا دیا، جس سے ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ جاپان کے ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا، جہاں نوجوان طالبعلم نے خراٹوں سے پریشان ہو کر انتہائی قدم اٹھایا۔ پولیس کے مطابق اس نے چچا کے لیے تیار کردہ سوپ میں زہر ملایا۔ کھانے کے فوری بعد چچا کی طبیعت خراب ہوئی، اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
ہسپتال میں ہونے والے طبی معائنے سے یہ بات سامنے آئی کہ چچا کو زہریلا مواد کھلایا گیا تھا۔ خوش قسمتی سے بروقت طبی امداد دی گئی، جس کے باعث ان کی جان بچ گئی اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نوجوان کو حراست میں لے لیا ہے، اور اس کے خلاف “قتل کی کوشش” کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ چچا کے خراٹوں سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور جاپانی معاشرے میں برداشت اور ذہنی صحت سے متعلق نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔ صارفین کی رائے میں خراٹے ایک عام مسئلہ ہیں، لیکن اس پر جان لیوا قدم اٹھانا ناقابلِ قبول اور افسوسناک ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور ذہنی دباؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے رویے اس وقت جنم لیتے ہیں جب جذباتی مسائل کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے اور بروقت رہنمائی میسر نہ ہو۔
پولیس اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کو صرف ایک مجرمانہ اقدام نہیں، بلکہ ایک معاشرتی المیہ کے طور پر بھی دیکھنا چاہیے — جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا ہم اپنی نوجوان نسل کو سننے، سمجھنے اور برداشت سکھا پا رہے ہیں یا نہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خراٹوں سے چچا کے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار