نیپال: وزیر توانائی کے گھر پر حملہ، تجوری توڑ کے رقم باہر اڑادی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کھٹمنڈو: نیپال میں حکومت مخالف احتجاج شدت اختیار کر گیا، مظاہرین نے وزیرتوانائی کے گھر میں گھس کر تجوری توڑ ڈالی اور پیسے باہر لا کر لٹا دیے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی ہے۔
احتجاج اس وقت بھی جاری ہے جب حکومت وزیراعظم شرما اولی کے استعفے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے پابندی ہٹانے کا اعلان کرچکی ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور موجودہ نظام میں شفافیت لائی جائے۔
دارالحکومت کٹھمنڈو میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 21 افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت 250 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ مشتعل افراد نے پارلیمنٹ کی عمارت، وزیراعظم کی رہائش گاہ، سپریم
کورٹ اور وزرا کے گھروں پر حملے کیے جبکہ کئی سرکاری دفاتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔نیپال کے سابق وزیراعظم شیر بہادر کے گھر پر بھی مظاہرین نے دھاوا بولا جبکہ وزیرتوانائی دیپک کھڑکا کے گھر میں توڑ پھوڑ کے دوران تجوری سے نکالے گئے نوٹ عوام میں بانٹ دیے گئے۔ موقع پر بڑی تعداد میں موجود افراد نے یہ پیسہ اکٹھا کیا۔
شدید احتجاج اور پرتشدد واقعات کے بعد تین وزرا کے ساتھ وزیراعظم کے پی شرما اولی بھی عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے فیس بک سمیت متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کی وجہ نفرت انگیزی، جعلی اکاؤنٹس اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ بتائی گئی تھی۔ یہی فیصلہ نیپال بھر میں نوجوانوں کے شدید احتجاج کا باعث بنا اور بالآخر حکومت کو پابندی اٹھانی پڑی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے گھر
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں